خواجہ آصف کے حلقے میں دوبارہ الیکشن کی نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو دس میں دھاندلی اور دوبارہ انتخابات سے متعلق تحریک انصاف کے عثمان ڈار کی اپیل پر سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی ، دوران سماعت عثمان ڈار کے وکیل بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ حلقے کے تین پولنگ اسٹیشنز کا ریکارڈ تاحال نہیں ملا، 19 ہزار سے زائد ووٹ غیر سیل شدہ تھیلوں میں ملے۔

خواجہ آصف نے الیکشن سے قبل پولنگ سٹاف کے ساتھ میٹنگ کی،الیکشن کمیشن نے رپورٹ میں حلقے میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو تسلیم کیا،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ غیرسیل شدہ تھیلوں کو گنتی سے کیسے نکال سکتے ہیں؟ بوگس ووٹوں کو نکال کر بھی خواجہ آصف 15 ہزار ووٹوں سے کامیاب ہوتے ہیں۔

انتخابی ریکارڈ کو مال خانے میں پھینک دیا جاتاہے، سیل توڑنے میں ملوث افراد کا تعین کیسے کرسکتے ہیں؟ بار بار موقع دینے کے باوجود عثمان ڈار ٹربیونل میں جرح کیلئے پیش نہیں ہوئے،پیش کیے گئے گواہ انتخابی امیدوار کے کارکن ہیں،دس حامیوں کے بیانات پر الیکشن کیسے کالعدم قرار دے سکتے ہیں؟عدالت نے نظر ثانی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے پر نظر ثانی کیلئے ٹھوس مواد پیش نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ حلقہ این اے 110 سے وزیر دفاع خواجہ آصف 2013 کے عام انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔

متعلق امتیاز کاظمی