’’ادب آدمی کو انسان بنانے کا کام کرتا ہے۔ وہ انسان کو کامیاب بنا تا ہے

2 days ago
0


’’ادب آدمی کو انسان بنانے کا کام کرتا ہے۔ وہ انسان کو کامیاب بنا تا ہے اور دوسروں کے دکھ درد میں شامل ہونے کے لیے مائل کرتاہے۔زبان اور ادب ہی وہ واحدراستہ ہے جس کے ذریعے سے راہ سے بھٹکی ہو ئی نو جوان نسل کو صراط مستقیم پر لایا جاسکتا ہے ۔ ‘‘ان خیالات کا اظہار پروفیسر ہری راج سنگھ نور ، ا لہ آ باد یو نیورسٹی کے سا بق شیخ الجامعہ نے کیا۔وہ شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی، میرٹھ میں حکومت اتر پردیش کے اشتراک سے منعقدہ دوروزہ کثیر لسانی(اردو ،ہندی انگریزی اور سنسکرت) قومی سیمیناربعنوان ’’سماج کی تعمیروتشکیل میں زبان وادب کا کردار‘‘ کے دوسرے دن اختتامی اجلاس میں بطور مہماںِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
مہمان ذی وقار یو نیورسٹی کیDSW پرو فیسر وائی وملا نے اس موقع پر کہا ’’زبان کے ذریعے ہی علوم و فنون پر قدرت حاصل کر کے بلندیوں کے نئے آسمان سر کیے جاسکتے ہیں۔ بہت سی ما دی آسائشیں بھی حاصل کی جاسکتی ہیں،لیکن زبان و ادب کے بغیر اتحاد اور انسانی قدریں حاصل نہیں کی جاسکتیں۔معاشرے میں زبان و ادب کا کردار ایسا ہی ہے جیسے جسم کے لیے روح۔اگر دنیا کی تاریخ پر رو شنی ڈا لی جائے تو یہی نتیجہ نکل کے آتا ہے کہ دنیا بھر میں جتنے بھی انقلابات آ ئے،ان سب میں ادب نے اہم کردار ادا کیا۔‘‘
سیمینار کا اختتامی اجلاس شام4:00بجے؍ شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد ہوا۔جس کی صدارت کے فرا ئض صدر شعبۂ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے انجام دیے۔ نظا مت کے فرا ئض ڈا کٹر آ صف علی نے انجام دیے۔پرو گرام میں ڈا کٹر عا بد حسین حیدری کی کتاب’’ اردو کے منتخب شخصی مرثیے‘‘ کا اجراء سابق شیخ الجامعہ الہ آباد یو نیورسٹی پرو فیسر ہری راج سنگھ’’نور‘‘ پروفیسر وائی وملا، ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ، ڈاکٹر محمد کاظم،صکے ہاتھوں عمل میں آ یا۔ اجلاس میں سبھی مقالہ نگاروں کو نشان یادگار اور سند پیش کی گئیں۔
دوسرے روزسیمینار کا پہلا اجلاس10:00بجے شروع ہوا۔ مجلس صدارت پر پروفیسرسدھیر شرما،صدر شعبۂ معاشیات، ڈاکٹر جمال احمد صدیقی، ڈاکٹر محمد یونس غازی،محترم آفاق احمد خاں، محترمہ نایاب زہرا زیدی رونق افروز رہے جب کہ ڈا کٹر فر حت خاتون، میرٹھ نے’’ اردو نظم میں سماجی تہواروں کی اہمیت‘‘،محترم نوشاد منظر جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی نے’’پریم چند کی کہا نیوں میں سماج کی عکاسی‘‘،ڈاکٹر شا کر حسین مرادآباد نے’’ اردو غزل میں بدلتے سماج کی عکاسی منور را نا کے خصوصی حوا لے سے‘‘، محترم محمد جنید عالم، گوتم بدھ یو نیورسٹی، نوئیڈا نے’’ اردو نظم میں سماجی تہواروں کی عکاسی‘‘، محترمہ ممتا،اسماعیل نیشنل مہیلا پی جی کالج، میرٹھ نے’’ ساہتیہ کے دوارا ما نو سماج کی وچار دھارا میں پریورتن‘‘ موضو عات پر اپنے تحقیقی مقا لے پیش کیے۔ نظامت کے فرا ئض ڈا کٹر شاداب علیم نے انجام دیے۔صدارتی خطبے میں محترم آفاق احمد خاں نے سمینار کو مختلف اور لیک سے ہٹ کر ایک سیمینار قرار دیا اور مقالوں پر سیر حاصل گفتگو کی۔
دوسرے اجلاس کی مجلس صدارت پر ڈا کٹر عابد حسین حیدری،پرنسپل مہا تما گاندھی میمو ریل پی جی کالج، سنبھل، ڈاکٹر فوزیہ بانو ، اسماعیل نیشنل مہیلا پی جی کالج میرٹھ، ذیشان خان ،میرٹھ اور ڈا کٹر ودیا سنگھ سا گر رو نق افروز رہے اور اس اجلاس میں محمد مصور عالم، گوتم بدھ یو نیورسٹی، نوئیڈا نے’’ اردو ناول میں سماج کی عکاسی‘‘،ڈا کٹر محمد اسلم قاسمی، رڑکی، اترا کھنڈ نے’’ ادب اور مذہب کے درمیان رشتہ‘‘، ڈا کٹر ریحانہ سلطا نہ، نوئیڈا نے ’’قرۃ العین حیدر کے افسا نوں میں سماج کی حقیقت نگاری، ڈاکٹر محمد مستمر، چندی گڑھ، ہریانہ نے’’ ادب اور سماج‘‘، سلمان عبد الصمد، جے این یو، دہلی ، نے ’’صحافت کے فروغ میں زبان کا کردار‘‘ مو ضو عات پر مقالات پیش کیے۔ نظا مت محترم ارشار سیانوی نے انجام دی۔
تیسرے اجلاس کی مجلس صدارت میں ڈا کٹر محمد کاظم، ڈی یو، دہلی، ڈا کٹر ہما مسعود، میرٹھ، ڈا کٹر الکا وششٹھ، میرٹھ، اور ڈا کٹر پروین کٹا ریا جلوہ افروز ہو ئے جب کہ ڈا کٹر ودیا ساگر،شعبۂ ہندی، نے’’ سماج اور سا ہتیہ‘‘، ڈا کٹر فو زیہ بانو، اسما عیل نیشنل کالج ، نے ’’اسماعیل میرٹھی کی شاعری میں قومی یکجہتی‘‘، محمد عا طف، نوئیڈا نے،’’ پریم چند کے ناولوں میں سماج کے تانے بانے‘‘ عینین علی حق دہلی یو نیورسٹی، دہلی نے ’’جدید اردو افسا نے میں فسادات کا منظر نا مہ‘‘، زا ہد ندیم احسن، جامعہ ملیہ اسلا میہ، دہلی نے’’ انتظار حسین کے افسا نوں میں ہجرت کے مسا ئل‘‘، ڈا کٹر مشتاق احمد قادری،دہلی یونیورسٹی، دہلی نے ’’ اردو نظم میں ہندو ستانی ذہن و تہذیب‘‘، ڈاکٹر محمد فر قان سنبھلی، علی گڑھ نے’’ معاشرے کی تشکیل میں لوک گیتوں کا کردار‘‘ اور محترم ارشاد سیانوی، ڈی یو، دہلی نے’’قرۃ العین حیدر کے افسا نوں میں ہجرت کا کرب‘‘ موضوعات پر اپنے گراں قدر مقالے پیش کیے۔نظا مت کے فرا ئض نصرت پروین نے انجام دیے۔
پرو گرام میں ڈاکٹر نعیم صدیقی، ڈاکٹرشاہد صدیقی، ڈا کٹر اسلم صدیقی، تسلیم جہاں، رخسانہ عثمانی، مختار خاں، شیبا مختار، ترنم جہاں، شوبی رانی، روزی، خوشنور، گلستاں، گلناز،مولانا جبرئیل، شاداب علی، شاکر مطلوب، وصی حیدر، ذکیہ جمال،کمال راہی، واحد علی، سمیت کثیر تعداد میں طلبہ و طالبات اور عمائدین شہر نے شرکت کی۔


2017-04-01

متعلق ویب ڈیسک