معروف شاعر ممتاز راشدکے ساتھ ایک شام اور مشاعرہ کا انعقاد

رپورٹ۔ محمد طاہر جمیل۔ دوحہ۔ قطر
بزم اردو، قطر کی سب سے پرانی ادبی تنظیم ہے جو پچھلی چھ دہائیوں سے اردو کی خدمت کر رہی ہے اس تنظیم نے کئی شاعر و ادیب متعارف کرائے ہیں مشا عرے اور سیمینارانعقاد کرائے جاتے ہیں ۔ یہاں کئی شاعروں اور ادیبوں کے فن کو نکھار نصیب ہوا۔بزم کے پرانے ساتھی ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیںیہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ مایہ ناز اور معروف شاعر ممتا ز راشد صاحب جو قطر میں۳۶ سال گزارنے کے بعد تین سال پہلے اپنی سروس مکمل کرکے لاہور منتقل ہو چکے ہیں گا ہے بگاہے قطر آتے رہتے ہیں اور دوستوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ رہتا ہے ممتاز صاحب کا بزم سے تعلق 3 دہائیوں پر مشتعمل ہے جب بھی آتے ہیں ہمراہ نئی کتاب بھی ہوتی ہے 24 کتابوں کے خالق ہیں جبکہ 7 کتابیں زیر ترتیب ہیں جسمیں سفرنامے۔ افسانے، نظمیں غزلیں، تبصرے، مضامین اور حال ہی میں شائع ہونیوالا ناول نازی نوازہے اسکے علاوہ لاہور اور دوحہ سے بیک وقت شائع ہونے والے سہ ماہی رسالے خیال وفن کے مدیراعلی بھی ہیں۔محمد ممتاز راشد بہت بڑے شاعر ہونے کے ساتھ بہت بڑے انسان بھی ہیں۔ اس باربھی بزم اردو نے ان کے شایان شان ایک تقریب کا انعقاددوحہ کے ریان روڈ پر واقع دکن ھال میں کیا اس تقریب میں قطر کے کئی نامی گرامی شعراء حضرات اور دوحہ کی معزز شخصیات موجود تھیں۔ 
تقریب کی ابتدائی نظامت بزم کے میڈیا سیکریٹر ی طاہر جمیل نے تقریب کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز ربِ کریم کے بابرکت کلام سے ہوا جس کی سعادت فیضان فہیم کو حاصل ہوئی۔طاہر جمیل نے ممتاز راشد کو انکے اشعار کے ساتھ صدارت کی کرسی سنبھالنے کیلیے اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔
راہ میں اک گلی نکل آئی
پھر تری یاد بھی نکل آئی
یاد آئیں شرارتیں تیری
رو رہے تھے ہنسی نکل آئی
بے خیالی میں ڈائری کھولی
ایک سوکھی کلی نکل آئی
بز م کے نائب صدر اور معروف شاعر منصور اعظمی ، آج کی نشست کے مہمان خصوصی تھے جبکہ قطر کی ہر دل عزیز شخصیت جن سے سب پیار کرتے ہیں ہر محفل کی جان انکی تعریف و توصیف کیا کریں ڈاکٹر توصیف ھاشمی اور خیال و فن کے مدیر محمد اکرم نعیم صاحب جو مختصر دورہ پر 
دوحہ تشریف لائے ہوئے ہیں مہمانان اعزازی کی نشستوں پر جلوہ افروز ہوئے۔
مہمانوں کے شہ نشیں ہونے کے بعد بزم کے ایک دیرینہ ساتھی شمس الدین شیخ نے ممتاز راشد پر لکھا گیا اپنا مضمون پیش کیا جس کے بعد ممتاز راشدکے نئے ناول ’نازی نواز‘ اور سہ ماہی رسالہ ’ خیال و فن‘ کے زیر اہتمام قطر سے تعلق رکھنے والے شعراء کی نعتوں پر مشتعمل ’ نعتیہ ایڈیشن ‘ کی روئنمائی صدر مجلس ، مہمانِ خصوصی اور مہمانان اعزازی کے ہاتھوں بزم کے تمام عہدیداران کی مو جو دگی میں کی گئی ۔ ممتاز راشد نے اپنے ناول اور سہ ماہی رسالہ ’ خیال و فن کے نئے شمارہ کی کاپیاں مہمانوں اور حاضرین میں تقسیم کئیں ۔ کتابوں کی روئمائی کے اس مرحلہ کے بعد اب باری تھی مشاعرہ کی ، جس کی نظامت بزم کی سرپرست کمیٹی کے رکن سید فہیم الدین نے شاندار انداز سے کی جسے ہر ایک نے پسند کیا۔
تقریب میں شامل شعرائے کرام کے کلام سے منتخب اشعار۔
شاہد سلطان اعظمی
ایسے لیڈر جو غنڈوں کے سردار تھے
بن گئے آج دیش کے منتری
انمول اتفاق۔
ّآنچ آئے نہ اسلام پر 
دین و ایماں بچا لیجئے
ظریف مہر بلوچ۔
ہمیں اڑان میں رکھے گا یا گرا دے گا
ذرا حساب لگاؤ ، یہ سال کس کا ہے
محمد طاہر جمیل۔
یہ محتسب یہ عدالت تو اک بہانہ ہے 
جو طے شدہ ہے وہی فیصلہ سنانا ہے
سانول عباسی
ان اونچے درختوں کے تم پاس نہیں رہنا
یہ سایہ تو دیتے ہیں پر بڑھنے نہیں دیتے
قیصر مسعود
تو نے تو غم بھی مجھ کو بہت ناپ کر دیا
اتنے میں میرے دل کا گزارہ تو ہے نہیں
اشفاق دیشمکھ۔
میں بیوفائی پہ تیری، کتاب لکھوں گا 
تمھارا نام رکھوں گا کتاب کا عنوان
آصف شفیع۔
آنے جانے کی جو تکرار لگی رہتی ہے
اس سے کچھ رونق بازار لگی رہتی ہے
سید فہیم الدین
نیند بھی میرے تعاقب میں رہی
میں کہ تعبیر کی خاطر جاگا
اعجاز حیدر۔
عمر کٹ جائے کسی طور سے آسا نی میں
عمر کٹتی ہے اسی ایک پریشانی میں
عزیز نبیل۔
میں اک پرندہ ہوں جلتے شجر سے لپٹا ہوا
ہے سارا باغ مرے بال و پر سے لپٹا ہوا
شفیق ا ختر۔
ہو نہ متحمل اگر پایاب کی
کیا ضرورت ناؤ کو گرداب کی
منصور اعظمی۔
ہونی تو چا ہئیے تھی محبت عروج پر
لیکن ہے دل میں بغض و عداوت عروج پر
محمد ممتاز راشد لا ہوری۔
فِشار غم سے مِرا ظرف آزماتے ھیں
مجھے رُکے ہوئے آنسو بہت ستا تے ھیں
کبھی صدا مجھے آتی ہے دشت و صحرا سے
کبھی مری کے مناظر مجھے بلاتے ہیں
مشاعرے کے اختتام پر اسٹیج کا رخ کیا گیا اور مہمانِ اعزازی ڈاکٹر تو صیف ہاشمی نے کہا کہ اس طرح کی ادبی اور شعری نشستیں بڑی اہم ہوتی ہیں، جو ادبی ماحول پیدا کرتی ہیں اور شعراء کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔دوسرے مہمان اعزازی خیال و فن کے مدیر محمد اکرم نعیم نے آج کی اس تقریب پر اپنی خوشی کا اظہار کیا کہ بزمِ ارد و نے بہت ترقی کی ہے اور بڑی تقریبات منعقد کرنے لگی ہے ، کافی عرصہ بعد یہاں پانے ار کچھ نئے دوستوں سے مل کر بیحد خوشی ہو ئی۔ مہمانِ خصوصی منصور اعظمی نے ممتاز راشد کو خرا ج عقیدت پیش کیا اسکے ساتھ انہوں نے کامیاب مشاعرہ کے انعقاد پر بزم کو مبارکباد پیش کی ، انہوں نے بزم اردو سے اپنی پرانی وابستگی کا ذکر کیا اور بزم کی ادب نوازی کو سراہا کہ ہمیشہ کی طرح بز م نے نئے آنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور آج کے مشاعرہ میں نئے شعراء کو سن کر خوشی ہوئی اور انکی کاکردگی شاندار رہی ہے۔ممتاز راشد نے محفل کے موڈ کو دیکھتے ہوئے کئی غزلیں اور متفرق اشعار سنائے، حاضرین بیحد لطف اندوز ہوئے ان کے کلام سے مزید انتخاب ہے کہ
ممتاز راشدنے اس خوبصورت محفل سجانے پر بزم اردو کو مبارکباد پیش کی۔، بزم اردو کا اس عزت افزائی پر شکریہ ادا کیا اور آج کی تقریب کو ایک یادگار تقریب قرار دیا۔ صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ۔ انہوں نے ممتاز راشد کا پردیس نمبر پیش کرنے پر شکریہ ادا کیا اور بزم اردو کو اپنے تعاون کا یقین دلایا۔

آج کے مشاعرہ کے صد ر کو اپنے خیالات کے اظہار کی دعوت دی گئی، انہوں نے اس عزت افزائی پر بزم کے اراکین کا شکریہ ادا کیا ، اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے اپنے تعاون کا ایک بار پھر یقین دلایا ان کا کہنا تھا کہ بزم اردو سے وابسطہ علمی اور ادبی شخصیات میرے لئے قابل احترام ہیں بزم کے نائب صدر منصور اعظمی نے تقریب کے صدر، مہمانانِ خصوصی و اعزازی، شعرائے کرام اور معزز سامعین اور شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کیا ۔ ابراہیم کمال خان بانی انجمنِ محبانِ اردو ہند ، 

متعلق ویب ڈیسک