امریکا نے افغانستان میں 11 ٹن وزنی بم گرادیا‘ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ

جی بی یو 43 بم ننگرہار کے قریب اچین ضلع میں داعش کی سرنگوں پر مشتمل کمپلیکس پر پھینکا گیا
داعش کے جنگجو غاروں میں چھپ کر خود کو منظم کررہے تھے‘ اندھیرے کی وجہ سے تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکا
کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے افغانستان میں 16سالہ جنگ کے دوران پہلی بار افغانستان میں دنیا کا سب سے بڑا غیرجوہری بم گرادیا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون کے ترجمان ایڈم سمپ نے میڈیا کو بتایا کہ21ہزار 600 پونڈ قریب 10ہزار کلو گرام یا11ٹن وزنی بارودی مواد سے لیس ’جی بی یو43‘ بم 13اپریل جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق شام7بجکر32 منٹ پر سی130 طیارے کے ذ ریعے صوبہ ننگرہار کے قریب اچین ضلع پر داعش کی سرنگوں پر مشتمل کمپلیکس پر گرایا گیا جو پاکستانی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس بم کو ’تمام بموں کی ماں‘ کہا جاتا ہے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقی افغانستان میں واقع غاروں کے ان سلسلوں میں داعش کے جنگجو چھپ کر خود کومنظم کررہے تھے اور اسی علاقے میں خودساختہ بم بھی تیار کئے جارہے تھے۔ اس حملے کے بعد افغانستان میں موجود امریکی افواج کو لاحق خطرات میں کمی واقع ہوگی اور جنگجوؤں کو بہت بڑا جانی نقصان پہنچے گا۔ امریکی سیکورٹی ذرائع کے مطابق سب سے بڑے غیر جوہری بم کو گرائے جانے کے کاغذات پر افغانستان میں امریکا اور اتحادی فوج کے سربراہ جنرل جان نکلسن نے دستخط کئے جبکہ اس کی حتمی منظوری امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل سے لی گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس غیر جوہری بم میں 11ٹن ’ٹی اینڈ ٹی‘ مواد تھا جس سے بہت بڑا دھماکا ہوا ہوگا اور کئی کلو میٹر تک اثرات پڑے ہوں گے۔ افغان میڈیا کے مطابق اندھیرا چھا جانے کی وجہ سے ہلاکتوں اور تباہی کا فوری طور پر اندازہ نہیں لگایا جاسکتا تاہم خدشہ ہے بڑے پیمانے پر نقصان ہواہوگا۔

متعلق امتیاز کاظمی