فکسنگ کیس کے ’’ٹھوس‘‘ شواہد پر سوالیہ نشان ثبت

اگر کرکٹرزکیخلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے تونجم سیٹھی کواستعفیٰ دینا پڑے گا۔ فوٹو: فائلاگر کرکٹرزکیخلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے تونجم سیٹھی کواستعفیٰ دینا پڑے گا۔ فوٹو: فائل

اگر کرکٹرزکیخلاف الزامات ثابت نہیں ہوئے تونجم سیٹھی کواستعفیٰ دینا پڑے گا۔ فوٹو: فائل

 لاہور:  عامر سہیل نے پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں ’’ٹھوس‘‘ شواہد پر سوالیہ نشان لگا دیا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر عامر سہیل نے پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کی غیر معمولی طوالت پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔ نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی سی بی نے دعوٰی کیا تھا کہ کھلاڑیوں کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، اگر ہوتے تو اب تک کوئی فیصلہ سامنے آجاتا،ملوث پلیئرز پر تاحیات پابندی لگ جانا چاہیے تھی۔

عامر سہیل نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بات کرنے والے خود پھنس گئے ہیں، پی سی بی کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سربراہ اور پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی نے خود کہا تھا کہ کرکٹرز کیخلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان کے اس دعوے کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے، اگر کھلاڑیوں پر الزامات ثابت نہیں ہوتے ان کو استعفٰی دینا پڑے گا۔

سابق کرکٹر نے کہا کہ اگر صرف شکوک تھے تو 2 پلیئرز کو واپس کیوں بھجوایا گیا؟ محمد عرفان کی طرح وارننگ دے کران کو بھی کھیل جاری رکھنے دیتے، بعد ازاں الزامات ثابت ہونے پر سزا دیدی جاتی، اس کیس میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کھلاڑیوں کا جس شخص سے رابطہ ہوا وہ بکی تھا بھی یا نہیں۔

علاوہ ازیں خالد لطیف اور شاہ زیب حسن کو باز پرس کیلیے دوبارہ اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کیے جانے کے بارے میں عامر سہیل نے کہا کہ اگر تحقیقات اس اسکینڈل میں ملوث مزید افراد کی کھوج لگانے کیلیے کی جا رہی ہیں تو الگ بات ہے، زیر تفتیش کھلاڑیوں کے بارے میں ثبوت جمع کیے جارہے ہیں تو باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھوس شواہد تک پہنچنے کیلیے اب مزید تحقیقات کی ضرورت پڑ رہی ہے تو منت سماجت کرکے ایف آئی اے کی کارروائی کیوں رکوائی گئی؟وزیر داخلہ چوہدری نثار نے پریس کانفرنس میں اسکینڈل کی تہہ تک پہنچنے کا اعلان کیا تھا، اگر پی سی بی کے پاس ثبوت نہیں تھے تو وفاقی ادارے کو کام کرنے دیتے تاکہ تمام حقائق سامنے آجاتے۔

متعلق صالیحہ ناصر