جولائی تا مارچ؛ ادائیگیوں کا توازن منفی 6 ارب ڈالر سے بھی تجاوز، بحران کا خدشہ

بیرونی ادائیگیوں اورتیل واجناس کی عالمی قیمتیں بڑھنے سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوگا، ماہرین۔ فوٹو: فائلبیرونی ادائیگیوں اورتیل واجناس کی عالمی قیمتیں بڑھنے سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوگا، ماہرین۔ فوٹو: فائل

بیرونی ادائیگیوں اورتیل واجناس کی عالمی قیمتیں بڑھنے سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوگا، ماہرین۔
فوٹو: فائل

 کراچی: درآمدات میں نمایاں اضافے، محدود سرمایہ کاری، ترسیلات زر اور برآمدات میں کمی کے سبب پاکستان کا توازن ادائیگی تیزی سے بگڑ رہا ہے جس سے ادائیگیوں کے بحران کا خدشہ ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران پاکستان کے جاری کھاتے کو 6ارب 13کروڑ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جولائی سے مارچ 2017 کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد کے برابر ہے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی مالیت جی ڈی پی کے 1.1فیصد کے برابر رہی تھی۔

ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے شدید دباؤ کی عکاسی کررہا ہے، عالمی منڈی میں خام تیل اور کماڈیٹیز کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل میں بھی مزید اضافہ ہوگا، ساتھ ہی قرضوں کی ادائیگی کے سبب زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوگا نتیجتاً حکومت کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے غیرملکی قرضوں پر انحصار کرنا ہوگا جس سے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا، جاری کھاتے کا یہ خسارہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3ارب 78 کروڑ ڈالر زائد ہے۔

گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی مالیت 2ارب 35کروڑ 10لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھی، صرف جنوری سے مارچ 2017 کی سہ ماہی کے دوران جاری کھاتے کو درپیش خسارے میں 2ارب 58کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب اعدادوشمار کے مطابق جاری کھاتے کے توازن کو بگاڑنے میں تجارتی خسارے نے اہم کردار ادا کیا، گرتی ہوئی برآمدات کی وجہ سے 9ماہ کے دوران بیرونی تجارت میں 17.782ارب ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 13.356ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ درپیش رہا تھا۔

علاوہ ازیں رواں مالی سال کے دوران خدمات کی تجارت کا خسارہ قدرے کم رہا تاہم اشیا و خدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 15.389ارب ڈالر کے مقابلے میں 19.759ارب ڈالر تک پہنچ گیا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم کی مالیت گزشتہ مالی سال کی سطح برقرار نہ رکھ سکی، 9 ماہ کے دوران 14.058ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، گزشتہ مالی سال کے دوران 14.388ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئی تھیں۔

متعلق امتیاز کاظمی