معروف ادیبہ رفعت خان مرحومہ کی یاد میں خانپور میں تعزیتی ریفرنس

رپورٹ:
رضیہ رحمان

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
ورنہ دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لئے
معروف ادیبہ رفعت خان مرحومہ کی یاد میں خانپور میں پاکستان رائٹرز وِنگ اور روزنامہ تاریخ انٹرنیشنل کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
پاکستان بھر سے خواتین سمیت تعداد نے بھرپور شرکت کی۔

ا30اپریل 2017 کو ختحصیل کونسل ہال خان پور میں معروف ادیبہ ،قلم کی روشنی کی مدیرہ محترمہ رفعت خان کی ناگہانی وفات پر ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا۔اس تعزیتی ریفرنس کی ایک خاص بات پاکستان بھر سے پچاس کے قریب خواتین کی شرکت بھی تھی۔اس پُر وقار تقریب کے روحِ رواں مرزا محمد یاسین بیگ(چیئرمین پاکستان رائٹرز وِنگ)،آصف الرحمن حسن (چیف ایڈیٹر روزنامہ تاریخ انٹرنیشنل)،محترمہ رضیہ رحمن صاحبہ(اسسٹنٹ پروفیسر اردوگورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین خانیوال)، محمد یوسف وحید (ایڈیٹر بچے من کے سچے)،مرزا حبیب الرحمن (شاعرونقاد)، عبداللہ نظامی( تعمیر ادب فورم لیہ) تھے۔اس تعزیتی ریفرنس کی صدارت محترمہ رفعت خان مرحومہ کے والدین نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی چوہدری شہزاد انور صاحب (چیئرمین تحصیل کونسل خانیور)،مجاہد جتوئی صاحب،ایم۔اے تبسم صاحب(نمائندہ ڈیلی تاریخ)،نسیم قریشی صاحب(چیف پیٹرن پاکستان رائٹرز وِنگ)،شبنم قادر صاحبہ،محمد افضل صادق ایڈووکیٹ صاحب اور ڈاکٹر نزیر احمد بزمی صاحب تھے۔ نقابت کے فرائض مرزامحمد یاسین صاحب،محترمہ رضیہ رحمن صاحبہ اور مرزا حبیب صاحب نے احسن طور پر نبھائے۔
پروگرام کاآغاز قاری محمد عبداللہ(صدر پاکستان رائٹرز وِنگ)نے تلاوت قرآن مجید اور ترجمہ سے کیا۔نعت پیش کرنے کی سعادت ایک پروگرام سپیشل پرسن آصفہ ستار صاحبہ نے حاصل کی۔انہوں نے بے بصر ہوتے ہوئے بھی بہت خوبصورت آوازمیں نعت پیش کی ۔ملک شہبازصاحب(لاہور)نے کہا کہ اس دنیا میں ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا سو محترمہ رفعت خان مرحومہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے کر رخصت ہوئی ہیں۔انہوں نے دعا کی کہ:
؂ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے ۔۔۔سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
محترمہ مبین اختر صاحبہ(والدہ رفعت خان مرحومہ) نے “فخرِ پاکستان۔۔۔رفعت خان”کے عنوان سے اظہار کیال کرتے ہوئے کہا کہ میں اللہ پاک کی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے رفعت خان جیسی سعادت مند اور نیک بیٹی عطا کی۔انہوں نے دورونزدیک سے آنے والے مہمانوں کوخوش آمدید کہا اور ان کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا میری بیٹی کو”فخر پاکستان”کا خطاب دیا گیا۔وہ جونئیر لکھنے والوں کی تحریروں کی اصلاح کرکے انہیں شائع کرواتی تھی۔”قلم کی روشنی کی اشاعت اس کے ایک دیرینہ خواب کی تعبیر تھی۔انہوں نے کہا کہ 5جون 1984سے یکم اپریل 2017تک کے مختصر عرصہ میں اس نے وہ کارہائے نمایاں انجام دئے کہ بہت سے لوگ ایک طویل زندگی میں بھی انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں۔انہوں نے رفعت خان مرحومہ کا لکھا ہوا ملی نغمہ اور نظم”قلم کی روشنی”پڑھ کے سنائیں ۔اظہار خیال کرتے ہوئے وہ کئی بار آبدیدہ ہوئیں ۔
مرزا محمد یاسین بیگ صاحب نے ان اشعار کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا:
؂ تیرگی کی جنگلوں میں روشنی لے جاؤں گی۔۔۔گویا کوئے دار تک میں زندگی لے جاؤں گی
نفرتوں کے دور میں سالک پزیرائی نہ ہو۔۔۔ کو بہ کو ،قریہ بہ قریہ دوستی لے جاؤں گی

محمد نوازصاحب ( ٹوبہ ٹیک سنگھ) نے”روشنی’کے عنوان سے مضمون پڑھتے ہوئے کہا کہ رفعت خان جیسے باہمت لوگ اندھیروں کا پردہ پھاڑ کر راستہ بناتے ،تیز آندھی کی شدت کے باوجود اپنے حصے کا چراغ جلائے رکھتے ہیں۔وہ “قلم کی روشنی”کا اجالا گھر گھر پہنچا کر زمانے کو اندھیروں سے نکالنے کا عزم رکھتی تھی۔ان کا نام ادب کے آسمان پر ستارہ بن کر چمکتا رہے گا۔انہوں نے ان اشعار کی صورت انہیں خراج تحسین پیش کیا:
؂بھول جاتا ہے زمانہ بچھڑ جانے کے بعد۔۔۔مرنے کے بعد بھی تجھے بھلانے نہیں دیا
قصۂ پارینہ نہ بننے دیں گے تیری یاد۔۔۔تیری خوشبو کا جھونکا ہوا کو لے جانے نہیں دیا

مزمل صدیقی صاحب(مظفر گڑھ)نے”مرنے والی رفعت خان نہیں تھی”کے عنوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے ان کی وفات پر اپنے اور مختلف لوگوں کے دکھ بھرے جذبات کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا بھلائی کا کوئی پروگرام ترتیب پاتا تو وہ انسانی فلاح وبہبود کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔اس نے ملک ملک سے لکھنے والوں کو جمع کیا،بانو قدسیہ آپا کی شفقت تلے ایک رسالہ”قلم کی روشنی”نکالاجس میں نئے لکھنے والوں کو بھرپور جگہ دی جاتی۔انہوں نے کہا کہ وہ رخصت نہیں ہوئی ،ہم نے اس کے وجود کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے سپرد خاک کیا ہے ،اس کی سوچ ،اس کے عظیم مقاصد ایک مشعل کی مانند جگمگاتے رہیں گے۔انہوں نے یہ شعر بھی پڑھا:
؂ اک دن خوشبوہوجاتے ہیں۔۔۔لوگ محبت کرنے والے 
مرزا محمد یاسین بیگ صاحب(چیئرمین پاکستان رائٹرز وِِنگ)نے چیئرمین تحصیل کونسل خانپور اور دیگر ارباب اختیار کی خدمت میں قرار داد پیش کی کہ علمی ،ادبی اور سماجی خدمات کے اعتراف کے طور پرخانپور کی کسی سڑک،پارک یا جگہ کا نام محترمہ رفعت خان صاحبہ کے نام پر رکھا جائے ۔اس قرار داد کی تائید میں ہال زوردار تالیوں کی آوازسے دیرتک گونجتا رہا۔ 
،محترمہ یاسمین صاحبہ(ٹیچر رفعت خان مرحومہ) نے ان کی ذہانت،معزوری کے باوجود باہمت ہونے ،ان کی تحریریصلاحیتوں،ان کے بلند حوصلوں،جزبہ خدمت کو سراہا۔
ڈاکٹر نزیر بزمی صاحب (چیئرمین دھریجہ ادبی اکیڈمی)نے کہا میری ان سے ایک ہی ملاقات ہوئی۔میں اپنے ایم۔فل کے تھیسس کے سلسلہ میں ان سے ملنے گیاتو انہوں نے پہلی ہی ملاقات میں مجھے متاثر کیا۔میگزین کی اشاعت ایک انتہائی مشکل کام ہے مگر انہوں نے یہ کام بھی کرڈالا۔وہ بہت کام کرنا چاہتی تھیں،سماجی ا ور ادبی سطح پر وہ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرنا چاہتی تھیں مگر ان کو اس کی مہلت نہیں ملی۔ وہ خود تو چلی گئیں مگر ان کا مشن”قلم کی روشنی”کی شکل میں جاری و ساری رہے گا،ان شاء اللہ۔
مجاہد جتوئی صاحب نے ان سے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ”قلم کی روشنی”کی رونمائی کی تقریب میں میں ہال میں داخل ہوا تو وہ پیلے سے سٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی۔میں نے سوچا کہ مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کی بجائے یہ پہلے سے سٹیج پر بیٹھی ہے،یہ کیا بے ادبی ہے؟لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ وہ معذور ہے،چل پھر نہیں سکتی تو میں بہت شرمندہ ہوا۔اور اللہ پاک کے اس فرمان کی طرف میرا دھیان گیا کہ “بے شک بعض گمان گناہ ہیں”انہوں نے اعلان کیا کہ وہ ہر سال یکم اپریل کو اس کے یوم وفات پر ہم خانپور میں ایک تقریب کا اہتمام کیا کریں گے۔جس میں شرکت کرنے والوں کے قیام وطعام کا انتظام میری طرف سے ہوا کرے گا۔ان کے اس اعلان پر ہال زور دارتالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔انہوں نے قرار داد پیش کی کہ میونسپل لائبریری میں ایک گوشہ “رفعت خان”کے نام سے مخصوص کردیا جائے جہاں ان کی تصویریں،تحریریں اور ان کے زیر استعمال دوسری اشیاء رکھی جائیں۔اس قرارداد کو بھی حاضرین نے تالیوں کی پُر زور آوازکے ذرئعے سراہا۔انہوں نے پاکستان رائٹرز ونگ اور تمام منتظمین کی کوشش وکاوش کو سراہا۔
محمد یوسف وحید صاحب نے پُروقار ریفرنس کے انعقاد پر یاکستان رائٹرز وِنگ اور روزنامہ تاریخ کا شکریہ ادا کیا اور مبارک باد پیش کی۔بطور میزبان انہوں نے مہمانوں کو خوش آمدیدکہا اور شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ “قلم کی روشنی”کے ذرئعے انہوں نے تاریخ میں اپنانام رقم کیا ہے۔انہوں نے رفعت خان اور قلم کی روشنی کو ملک کے طول وعرض میں پھیلانے کے لئے تجویز پیش کی کہ اس رسالہ کو پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں کی لائبریریوں تک پہنچایا جائے تاکہ یہ ان کے لئے صدقہ جاریہ بنا رہے۔
محمد افضل صادق ایڈووکیٹ صاحب نے رفعت خان کے عزم وحوصلہ اور علمی وادبی کاوشوں کو سراہتے ہوئے خانپور کا سرمایہ قرار دیا۔
شاہد جتوئی صاحب(نمائندہ ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن)نے ان کے حالات زندگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ وہ مایوپیتھی کا شکار ہوکر آہستہ آہستہ معزور ہوتی گئیں مگر حصول علم وادب کی لگن اور ان کے عزائم کے آگے معزوری ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔پیارا پاکستان ویلفیئر سوسائٹی ،بچوں کا گلستان اور پاکستان رائٹرز ونگ کی طرف سے انہیں “Best author award” دئے گئے۔28مئی ایٹمی دھماکے کے دن کا نام تجویز کرنے کے مقابلے میں شرکت پر وزیراعظم نواز شریف صاحب کی طرف سے ستائشی خط بھیجا گیا۔فیس بُک پر”قلم کی روشنی”کے نام سے ایک ادبی گروپ بنایا جس کے سینکڑوں ممبرز اور پسند کرنے والے ہیں،بعد ازاں اسی نام سے اپنا ایک رسالہ جاری کیا۔ان کو سانس کی تکلیف ہونے پر شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان لے جایا گیا جہاں وہ یکم اپریل 2017کواس جہان فانی کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔انہیں جٹکی کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔شاہد جتوئی صاحب نے پاکستان رائٹرز ونگ ،روزنامہ تاریخ کا خانپور میں تعزیتی ریفرنس کے انعقاد پر شکریہ ادا کیااور ان کے اس اقدام کو سراہا۔
پروفیسر شہزاد عاطر صاحب نے بھی ان کی علمی،ادبی اور سماجی خدمات کی تعریف کی۔ انہوں نے ان کی خوش اخلاقی اور سب سے محبت کے جزبہ کو سراہا۔انہوں نے اس شعر کے ذرئعے انہیں خراج عقیدت پیش کیا:
؂ روشنی ہی بوتے ہیں،روشنی اگاتے ہیں۔۔۔ آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتے ہیں
محترمہ مہ جبیں صاحبہ(کزن) نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی خود کو معزور نہیں سمجھا،بلکہ بڑی بہادری سے ایک نارمل انسان سے بھی بڑھ کر علمی وادبی میدان میں اپنا مقام بنایا۔انہوں نے یہ شعر پڑھا:
؂ بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی۔۔۔اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
محترمہ شبنم قادر صاحبہ نے کہا کہ وہ اس شہر کے کی نیک نامی اور فخر کا باعث بنیں۔آج ان کی خدمات کا ذکر سن کر مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ میں ان سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں کر سکی۔ان کا میگزین اور دیگر علمی و ادبی خدمات ان کو زندہ جاوید رکھیں گی۔
راقم الحروف نے کہا کہ وہ ہر فن مولا قسم کی شخصیت تھی۔اس نے بہت کم عرصہ میں اپنے آپ کو منوایا۔ایک سال کے عرصہ میں قلم کی روشنی کے تین شمارے نکالنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔انہوں نے کہا کہ اہل خانپور نے بار بار ہم سے کہا کہ اس تعزیتی تقریب کے انعقاد میں ہمیں کچھ ذمہ داری سونپی جائے مگر ہم نے انکار کیا کیونکہ رفعت خان بہت خوددار تھی۔وہ کسی کا احسان لینا پسند نہیں کرتی تھی سو اس تقریب کے تمام تر اخراجات پاکستان رائٹرز ونگ اور روزنامہ تاریخ نے اٹھائے ہیں،اس کی خودداری کا بھرم رکھا ہے ہم نے،بقول شاعر:
؂ اے جذبہ خودداری،جھکنے نہ دیا تونے۔۔۔لکھنے کے لئے ورنہ،سونے کے قلم آتے
راقم الحروف رفعت خان کا ذکر کرتے ہوئے باربار اشکبار ہوئی،اللہ رب العزت اس کی مغفرت فرمائے اور اس کے درجات بلند فرمائے۔آمین۔روتے ہوئے یہ شعر پڑھا:
؂ مربھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے۔۔۔لفظ میرے،میرے ہونے کی گواہی دیں گے
راقم الحروف نے اعلان کیا کہ اس تقریب میں کئے جانے والے تمام اظہار خیالات کو الگ یا “قلم کی روشنی” کے رفعت خان نمبر میں شائع کئے جائیں گے،ان شاء اللہ۔اس اعلان کو حاضرین نے تالیوں کی شکل میں تائید بخشی۔اکثریت نے “قلم کی روشنی”کے “رفعت خان نمبر”کی اشاعت اور اس میں تمام پڑھے گئے مضامین کی اشاعت پر اتفاق کیا۔
چوہدری شہزاد انور صاحب(چیئرمین تحصیل کونسل خانپور) نے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان رائٹرز ونگ ،روزنامہ تاریخ اوردیگر منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ادیبوں،فنکاروں کو ان کی زندگی میں کم ہی سراہا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے آج علم ہوا کہ مرحومہ کو ایک بہترین شاعرہ،افسانہ نگار،ناول نگار،کہانی کار،کالم نگار،مضمون نگاراور دردمند دل رکھنے والی سماجی کارکن تھیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا انتخاب تو ہوچکا ہے مگر ابھی حلف اٹھانا باقی ہے۔اس کے بعد ان کی خدمات کے اعتراف کے لئے جو قراردادیں پیش کی گئی ہیں ان شاء اللہ ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔انہوں نے جناح لائبریری میں ایک گوشہ ان کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا اور کسی سڑک یا جگہ کو ان کے نام سے منسوب کرنے پر بھی اتفاق کیا اورتقریب میں موجود لیڈی کونسلر محترمہ شاہانہ مرتضیٰ سے کہا کہ وہ یہ قرار داد اجلاس میں پیش کریں تو میں اس کی منظوری دوں گا۔ان کے اس فراخ دلانہ اعلان پر ہال دیر تک تالیوں کی آواز سے گونجتا رہا۔
مندرجہ بالا افراد کے علاوہ شرکائے تقریب کے اسمائے گرامی کچھ یوں ہیں:
احمد فراز بلوچ،لئیق خان،انیس خان نیازی،محمد مثمان نظامی،عبدالغفار دھریجہ،ابتسام الحق،محمد انس خان،عزیزاللہ خان،شبیر رحمانی،مرزا عبدالرزاق بیگ،زاہد محمود ڈاہر،محمد یعقوب،محمد توصیف خان نیازی،محمد ولید ملک،رمیش کمار،طارق رحیم،آصف خان،شفقت الرحمان،محمد عاصم رحیم،ضیاء الرحمان،راشد اویسی،محمد وکیل،محمد انیس خان نیازی،حنظلہ خان،اعجازالحق خان،محمد شاہد خان،میاں منور احمد،ملک محمد اختر،ٍٍچوہدری شاہنواز وینس،عبدالرشید لودھی،میاں شبیر احمد نیازی،بلال خورشیدبزدار،میاں امیر حمزہ،ڈاکٹر ابراہیم،مقصود کھوکھر،عبدالحق حقانی،محمد عابد خان نیازی،نعیم الرحمان،اظہر عروج ،نعیم بلوچ ،عبدالرحیم ،فیصل کریم ،احتشام الحق ،مخدوم عرفان رفیع ،ساجد بلوچ ،ابتسام الحق ،اعجاز الحق ،طفیل سلیم شجرا ،وغیرہ
اس تعزیتی ریفرنس کا منشاء ومقصد محترمہ رفعت خان صاحبہ کی خدمات کا اعتراف ،ان کا نام زندہ رکھنے کے لئے کسی مقام کی تخصیص اور سب سے بڑھ کر ان کے لئے دعائے مغفرت کرنا تھا۔سو مرزا محمد یاسین بیگ صاحب نے انتہائی خشوع وخضوع سے ان کی مغفرت ،ان کے درجات کی بلندی،بطور انسان شعوری ولاشعوری طور پر ہوجانے والی غلطیوں کی معافی،ان کو امہات المؤمنین،صحابیات اور نیک ترین لوگوں کے ساتھ جنت الفردوس کے اعلیٰ ترین مقام کے حصول اور والدین و دیگر عزیزواقارب کو صبر جمیل کی توفیق کی دعا کروائی۔
محترمہ دفعت خان مرحومہ کی خدمات کے اعتراف میں پاکستان رائٹرز ونگ ،روزنامہ تاریخ کی طرف سے “فروغ ادب ایوارڈ “،بچے من کے سچے کی طرف اور ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن خان پور کی طرف سے “اعتراف فن ایوارڈ”اور راقم الحروف کی طرف سے “فروغ ادب و فروغ محبت ایوارڈ” سے نوازا گیا جو ان کی والدہ محترمہ مبین اختر صاحبہ اور والدکانسٹیبل محمد شفیق خان نیازی صاحب نے وصول کئے۔
اس تعزیتی اجلاس کے شرکاء کے لئے کھانے اور ٹھنڈے مشروب کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔
تعزیتی اجلاس کے بعد پاکستان راٹرز ونگ ،روزنامہ تاریخ،بچے من کے سچے کے نمائندے جٹکی قبرالستان گئے جہاں روزنامہ تاریخ کے چیف ایڈیٹر محترم آصف الرحمان حسن کی طرف سے سنگ مرمر کا کتبہ نسب کیا گیا اور مرزا یاسین بیگ صاحب نے دوبارہ مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت کروائی۔
یوں یہ پُروقار ویادگار تعزیتی اجلاس اختتام پزیر ہوا اور ملک بھر سے آئے ہوئے شرکاء اپنے اپنے علاقوں کی طرف عازم سفر ہوئے۔

 

متعلق ویب ڈیسک