کیکڑے کے خول سے ملیریا پھیلانے والے مچھروں کے خاتمے کا کامیاب تجربہ

کیکڑوں اور اس جیسے دیگر جانداروں کی پشت ایک ٹھوس لیکن ہلکے مادے سے بنی ہوتی ہے جسے کائٹِن کہتے ہیں۔ ماہرین اس جادوئی خول کے بہت سے مفید کام دریافت کرچکے ہیں، ان سے بنی زخم پٹی سے گہرے زخم بھی تیزی سے ٹھیک ہوجاتے ہیں جب کہ کئی طرح کی دوائیں اور الیکٹرانکس میں بھی کیکڑے کے خول کے اجزا استعمال ہوتے ہیں۔

تائیوان نیشنل اوشن یونیورسٹی کے ماہرین نے چاندی کے ذرات ملاکر ان سے ملیریا پھیلانے والے مچھروں کو کامیابی سے خاتمہ کیا گیا ہے۔ ماہرین نے کیکڑے کے خول کا سفوف بنایا اور اس میں چاندی کے نینو ذرات ملاکر ان کی کم شدت کی مقدارکو مچھروں والے پانی کے ذخائر پر چھڑکا تو اس سے ملیریا کی وجہ بننے والے مچھر، انڈے اور ان کے لاروے بہت تیزی سے ختم ہوگئے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ذرات مچھر کے جسم میں سرایت کرکے اس کے خلیات کو تباہ کردیتے ہیں اور اس کا حیاتیاتی چکر ( لائف سائیکل) متاثر ہوجاتا ہے۔ ایک اور اچھی بات یہ نوٹ کی گئی کہ جب اس کا محلول پانی پر چھڑکا گیا تو اس سے پانی میں موجود خطرناک ترین بیکٹریا اور جراثیم بھی ختم ہوگئے جن میں نمونیا اور دیگر امراض کی وجہ بننے والے جراثیم بھی شامل ہیں۔

متعلق تعارف اللہ خاوری