اب یہ پاکستان کا کام ہے کہ وہ عدالت میں ثبوت لے کر جائے: جسٹس علی نواز چوہان

عالمی عدالت انصاف کے سابق جج جسٹس علی نواز چوہان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو آنے والا فیصلہ صرف یہ تھا کہ پاکستان اس مقدمے کے لیے جو نئے تقاضے مرتب کیے گئے ہیں ان کے مطابق ری ٹرائل کرے۔ بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے جسٹس علی نواز چوہان کا کہنا تھا کہ ’اصل کیس تو ابھی بھی پاکستان کے ہی دائرہ اختیار میں ہے اور پاکستان نے ہی اس کا فیصلہ کرنا ہے۔‘

علی نواز چوہان نے کہا کہ ’جہاں تک سزائے موت کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ روک دیا گیا ہے اور وہ یہی چاہ رہے ہیں کہ اس کا ری ٹرائل ہو اور کلبھوشن کو پھانسی نہ دی جائے۔‘ خیال رہے کہ جمعرات کو عالمی عدالت انصاف نے پاکستان سے کہا کہ انڈین نیوی کے سابق اہلکار اور مبینہ جاسوس كلبھوشن جادھو کی سزائے موت پر اس وقت تک عملدرآمد نہ کیا جائے جب تک عدالت اس سلسلے میں انڈین درخواست پر حتمی فیصلہ نہ سنا دے۔اس حوالے سے علی نواز چوہان نے کہا کہ ’یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ فیصلہ انڈیا کے حق میں گیا ہے۔ یہ تو درمیانی فیصلہ ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اوپر کی عدالتوں میں اپیل کرنے کا موقع ہے اور ان میں بھی یہی اعتراضات اٹھائے جانے تھے کہ قونصلر رسائی نہیں ملی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان یہ موقف لے لیتا کہ ہم کلبھوشن جادھو کو سزا اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک کہ عدالتی کارروائی پوری نہیں ہو جاتی تو شاید عالمی عدالت کی جانب سے حکم امتناع جاری نہیں ہوتا لیکن پاکستان نے یہ چیز وہاں نہیں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان اگر یہ ثابت کر دے کہ کلبھوشن جادھو گناہ گار ہے تو معاملہ حل ہو جائے گا۔ اب یہ پاکستان کا کام ہے کہ وہ عدالت میں ثبوت لے کر جائے۔


Comments

‘ہم سب’ کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا ‘ہم سب’ کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی کی دیگر تحریریں

بی بی سی کی دیگر تحریریں

متعلق ویب ڈیسک