ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم، برآمدی سرگرمیاں بحال نہ ہو سکیں

15بحری جہازدیگربندرگاہوں پر منتقل یا واپس چلے گئے، شپنگ کمپنیاں۔ فوٹو: آن لائن/فائل15بحری جہازدیگربندرگاہوں پر منتقل یا واپس چلے گئے، شپنگ کمپنیاں۔ فوٹو: آن لائن/فائل

15بحری جہازدیگربندرگاہوں پر منتقل یا واپس چلے گئے، شپنگ کمپنیاں۔ فوٹو: آن لائن/فائل

 کراچی: ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم ہونے کے بعد دونوں بندرگاہوں پرقائم نجی کنٹینر ٹرمینلز سے40 ہزاردرآمدہ کنٹینرز کی ڈیمریج وڈیٹنشن کی ادائیگیوں پرکلیئرنس وترسیل کا عمل شروع ہونے کے باوجود جمعرات کو بھی برآمدی سرگرمیاں بحال نہ ہوسکیں۔

ذرائع نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ پاکستان سے سمندری راستے برآمدی سرگرمیوں کے آغاز میں مزید 2 یوم لگ سکتے ہیں کیوںکہ کے آئی سی ٹی، پی آئی سی ٹی، کیوآئی سی ٹی اور ایس اے پی کنٹینرٹرمینلز میں گزشتہ 10 یوم میں مختلف ممالک سے درآمد ہونے والے کنٹینرز کا انبارلگا ہوا ہے لہٰذا بندرگاہوں اور ٹرمینلز پر مطلوبہ جگہ کی دستیابی کی صورت میں ہی پاکستان سے مختلف نوعیت کی برآمدی اشیا پر مشتمل کنٹینرز رکھنے کی گنجائش ہوسکے گی جن کی کسٹمزکلیئرنس کے بعد برآمد ہونے کے امکانات ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ کراچی اوربن قاسم کی بندرگاہوں پرقائم چاروں نجی کنٹینرٹرمینلز میں یومیہ 7500 کنٹینرزکی ہینڈلنگ ہوتی ہے، ٹرانسپورٹرز کی 10 روزہ طویل ہڑتال کی وجہ سے ان ٹرمینلزمیں 40 ہزاردرآمدہ کنٹینرز جمع ہوگئے تھے۔ جنہیں ٹرمینل آپریٹرز تیز رفتاری کے ساتھ کلیئرکرنے کی کوششیں کررہے ہیں اور ان بیک لاک کنٹینرزکی کلیئرنس ہونے کا عمل مکمل ہونے میں کم ازکم4 یوم لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب شپنگ انڈسٹری کے باخبرذرائع نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم ہونے کے بعد شپنگ کمپنیوں نے بھی درآمدہ کنسائمنٹس پرمجوزہ کنجیشن چارجز عائد کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے تاہم ڈیمریج وڈیٹینشن چارجز کی وصولیاں کی جارہی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کی وجہ سے شپنگ کمپنیوں کوبھاری مالی خسارے سے دوچار ہونا پڑا ہے اور ہڑتالی ایام کے دوران تقریبا15 بحری جہازوں کویاتو دیگربندرگاہوں پر منتقل کیا گیا یا پھر وہ بحری جہاز واپس چلے گئے ہیں۔

ایک شپنگ کمپنی کے نمائندے نے بتایا کہ ہڑتال سے متاثر ہونے والی ایک جاپانی موٹرکارکمپنی نے ہڑتال کے نویں روز یہ دھمکی دیدی تھی کہ اگرٹرانسپورٹرز کی ہڑتال فوری طور پرختم نہ ہوئی تو وہ پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ لیں گے۔

شپنگ وٹرمینل آپریٹرز کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی10 روزہ طویل ہڑتال کے منفی اثرات آئندہ ایک ماہ تک برقرار رہیں گے جس کے بعد درآمدوبرآمدی سرگرمیاں معمول کے مطابق آجائیں گی۔

علاوہ ازیں کراچی کسٹمزایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدرخرم اعجاز نے کہا کہ ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال کاخمیازہ ٹریڈ سیکٹر بھگت رہا ہے جن پرکروڑوں روپے مالیت کے ڈیمریج وڈیٹینشن چارجز عائد کردیے گئے ہیں جبکہ وفاقی وزارت بندرگاہ وجہاز رانی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، ملک کے معاشی حالات اور کاروباری صورتحال کومدنظر رکھتے ہوئے وزارت بندرگاہ وجہاز رانی کو چاہیے کہ وہ شپنگ لائنزکواس بات کا پابند بنائے کہ وہ ہڑتالی ایام کے دوران رکے ہوئے درآمدی کنٹینرز پرڈیمریج وڈیٹنشن چارجز کی وصولیاں بند کریں۔

متعلق امتیاز کاظمی