سرکاری افسر کی بیٹی کو پولیو قطرے پلانے پر اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد کے ساتھ کیا ہوا؟

Image outcome for ‫پولیو قطرے‬‎

اسلام آباد -حکومت نے ملک سے پولیو جیسی بیماری کے خاتمے کے لیے ویکسی نیشن سے انکار کرنے والے والدین کو سزا دینے کا اعلان کیا ہے لیکن اس فیصلے کا اطلاق بھی غریبوں پر ہی ہوتا ہے اور بااثر افراد کے خلاف کوئی کارروائی ہی نہیں ہوتی۔

ایسا ہی ایک واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا ہے جہاں کسٹم آفیسر کی بیٹی کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے پر اسسٹنٹ کمشنر کو ہی عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انسداد پولیو مہم کے دوران ڈائریکٹر ایکسائز مریم ممتاز کے شوہر نے بچی کو قطرے پلانے سے انکار کیا لیکن اس کے باوجود بچی کو قطرے پلائے گئے، خاتون آفیسر مریم نے پہلے اے سی سٹی علی اصغر کو فون پر کھری کھری سنائیں کہ میں نے بچی کو قطرے پلا دئیے تھے تو پھر تمہاری جرات کیسے ہوئی میری بچی کو پولیو کے قطرے پلاوٴ، فون پر صلواتیں سنانے کے بعد مریم ممتاز نے چیف کمشنر کو بھی شکایت  کردی۔ چیف کمشنر اسلام آباد ذوالفقار حیدر نے معاملے کو سمجھنے کے بجائے آؤ دیکھا نا تاؤ اے سی سٹی علی اصغر سے ایک گھنٹے میں جواب طلب کرلیا، جس پر اے سی سٹی علی اصغر نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ وہ غلطی نہ ہونے کے باوجود خاتون آفیسر سے معافی مانگنے کو تیار ہیں۔ صحیح کام کرنے کے باوجود معافی مانگنے پر بھی علی اصغر کی جان نہ بخشی گئی اور چیف کمشنر نے ان کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردیں۔ دوسری جانب چیف کمشنر کے فیصلے سے انتظامیہ کے افسران میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے :-

متعلق نامہ نگار