امن اور ترقی بذریعہ بچوں کا ادب قومی کانفرنس برائے ادب اطفال

2 days ago
0

امن اور ترقی بذریعہ بچوں کا ادب
قومی کانفرنس برائے ادب اطفال
اختر سردار چودھری
پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی ، اکادمی ادبیات اطفال اور ماہنامہ پھول کے زیر اہتمام21مئی 2017 کو بچوں کے ادیبوں کی دوسری ایک روزہ قومی کانفرنس بعنوان امن اور ترقی بذریعہ ادب اطفال منعقد کی گئی جس میں بچوں کے ادیبوں کے علاوہ شعرا ء و ادباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ملک کے طول و عرض سے خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اس کانفرنس کا مقصد بچوں کے ادب کو فروغ دینا ،بچوں کی کتب اور رسائل میں شائع ہونے والی کہانیوں کے موضوع پر تبادلہ خیال کرنا ،بچوں کا ادب تخلیق کرنے والوں کے لئے ایک بہترین موضوع کا انتخاب کرنا جس سے بچوں کی شخصیت و کردار پر اچھے اثرات نمایاں طور پر نظر آئیں اور خاص طور پر ایسے موضوع کا انتخاب ہو جس سے بچوں میں اسلامی ،اخلاقی ،سماجی ،ثقافتی لگاؤ پید اہو،کیونکہ آج کا بچہ کل کا معمار ہے۔معاشرے میں بچوں کے ادب کے ذریعے امن اور ترقی کے لئے کوششیں کرناشامل ہے۔
ماہنامہ ’’ پھول‘‘ اکادمی ادبیات اطفال اور پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی کے اشتراک سے نجی ہوٹل میں دوسرے قومی کانفرنس ادب اطفال کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں آزاد کشمیر چاروں صوبوں کے بچوں ادیبوں نے شرکت کی، کانفرنس کی نظامت کے فرائض شرمین قمر نے ادا کئے، کانفرنس کے افتتاحی سیشن کی صدارت معروف ادیب و براڈ کاسٹر ابصار عبدالعلی نے کی۔
تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہواجس کی سعادت قاری احمد ہاشمی نے حاصل کی،جبکہ نعت رسول مقبول سرور حسین نقشبدی نے اپنی خوبصورت آواز سناکر حاضرین سے خوب داد وصول کی۔
خطبہ استقبالیہ اکادمی ادبیات اطفال کے وائس چیئر مین معروف مزاح نگاراور کالم نویس حافظ مظفر محسن نے پیش کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کے غماز ہیں کہ بچوں کی تعلیم و تربیت قرآن و سنت کی تعلیمات کے عین مطابق کرنی چائیے انہوں نے کہا ہمارے ہاں بڑوں کا ادب لکھنے والوں کی کمی ہے جبکہ بچوں کے لکھنے والے تو آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اقبال کے افکار پر چلیں تو جس طرح ہم نے ایٹم بم بنا کر ترقی کی ہے اسی طرح ہم ایک اچھی تحریر دے کر مزید ترقی کر سکتے۔حافظ مظفر محسن نے کہا کہ جب تک سرکاری سطح پر بچوں کے ادب اور بچوں کے ادیبوں کو ان کا صحیح مقام نہیں دیا جاتا ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ہم بچوں کے ادب کے فروغ کیلئے کام کرتے رہیں گے۔
جبکہ افتتاحی سیشن سے جمال الدین افغانی نے شدت پسندی کے خاتمے میں اہلِ قلم کا کردارکے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لکھاری ہی اس معاشرے کو سنبھال سکتا ہے، افسوس کا مقام ہے کہ نیشنل ایکشن پلان میں اس کو شامل نہیں کیا گیا۔ قوموں کی ترقی کتابوں سے ہوتی ہے مگر افسوس بچوں کا ادب بہت پیچھے ہے۔
دنیا سے جنگ ختم کر کے ہم کتاب کی جنگ شروع کریں تاکہ دنیا کی طرح ہماری قوم بھی ترقی کر سکے۔محمد جمال الدین افغانی نے کہا کہ قرآن و سنت کی روشنی میں شدت پسندی کے خاتمے میں اہل قلم کا کردار کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قرآن و سنت پر عمل کیا جائے تو دنیا سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہو جائے گا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق چیف آف نیول سٹاف و چیئرمین معاون فاؤنڈیشن ایڈمرل (ر) محمد آصف سندھیلہ نے کہا کہ اگر خلوص کے ساتھ جدوجہد کی جائے، مشکلات کی پرواہ نہ کی جائے تو انسان ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ مجھے نئی نسل کی کردار سازی میں اہم کردار ادا کرنے والے ادیبوں کے درمیان آ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ نئی نسل کو احساس کمتری سے نکال کر خود اعتمادی سے ہمکنار کرنا ہو گا۔
معروف ڈرامہ نگار اور ادیب اصغر ندیم سید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے طلباء کی حوصلہ افزائی کیلئے انہیں کہا ہے کہ اگر آپ کے وسائل نہیں ہیں تو ابتدا میں آپ موبائل کے ذریعے چھوٹے چھوٹے ڈرامے بنائیں جیسے جیسے آپ اس فن پر عبور حاصل کرتے جائیں مزید وسائل اور آلات استعمال کریں۔ انہوں نے کانفرنس کے حوالے سے کہا کہ ایسی کانفرنسوں سے سوچ و فکر کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔
بچوں کی آواز بن کر شباہت قمر نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ بچوں کے ادب کی سر پرستی کریں تاکہ سرکاری سطح پر ادب اطفال کی تعمیرو ترقی کے حوالے سے بھر پور طریقے سے کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا ادب تخلیق کرنے والوں کے پاؤں ضرور زخمی ہے مگر ادب تو زندہ ہے اور رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم بچوں کے ادیبوں کی تحریروں سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ ہمارے رہنما اور استاد ہیں۔
بچوں کے نامورادیب و براڈ کاسٹر ابصار عبدالعلی نے کہا کہ بچوں کے ادب میں اس وقت بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔ بچوں کا ادب، لکھنے والوں کے لئے ایک بہت بڑے مشن کی حثییت رکھتا ہے۔ یہ دنیا بچوں سے ہی قائم و دائم ہے۔ ادب ہی بچوں کو سبق دیتا ہے کہ ہم کل بھی بچے تھے، آج بھی بچے ہیں۔ ادب کردار سازی کا سبق دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کے ادب کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں گیا حالانکہ بچوں کا ادب بچوں کی شخصیت پر دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے۔ حکومت اور سرکاری ادبی اداروں کو چاہئے کہ وہ بچوں کے ادیبوں کو ان کا جائز مقام دیں۔ بچوں کے ادیبوں کو بھی سول ایوارڈز دیئے جائیں۔ 
صدر پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی شعیب مرزا نے اپنے خطاب میں کہا کہ چلے چلو کہ وہ منزل دور نہیں، یہ کانفرس بھی اسی کی کڑی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ سرکاری ادبی اداروں اور حکومت کی توجہ بچوں کے ادب کی جانب دلانے کے لئے ہم کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں بہت جلد اس کے نتائج حاصل ہوں گے،بچوں کا ادب نئی نسل کی کردار سازی میں اہم رکن ہے ،بچوں کا ادب ہمارا مشن ہے۔ اس لیے ہم اس کے ساتھ زندگی بھر چلے چلو منزل دور نہیں کے مصداق سفر جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے ادیب دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ دہشت گردی میں نوعمر نوجوانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ایسے نوجوانوں کو اچھا ادب پڑھنے کو ملے تو وہ مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر گمراہ نہیں ہونگے۔
ڈاکٹر شیما ربانی (کراچی) نے بچوں کے ادب کے معاشرے پر اثرات معروف مزاح نگار اشفاق احمد ورک نے بچوں کے ادب میں مزاح کی ضرورت و اہمیت لاہور یونیورسٹی برائے خواتین کی استاد ڈاکٹر شازیہ رزاق نے جامعات میں بچوں کے ادب پر تحقیق کی ضرورت معروف ادیب و شاعر ڈاکٹر فرحت عباس نے بچوں کی کردار سازی اور منظوم اردو ادب معروف ادیب ڈاکٹر امجد طفیل نے ایک سیشن کی صدارت کرتے ہوئے بچوں کا اد ب مجموعی صورتحال پر مقالہ پیش کیا۔
کانفرنس کے چار سیشن ہوئے پہلے افتتاحی سیشن میں جمال الدین افغانی، حافظ مظفر محسن ،شباہت قمر،شعیب مرزا، البصار عبدالعلی نے اظہار خیال کیا جبکہ دوسرے سیشن میں ڈاکٹر شیما ربانی،ببرک جمالی،ساجد محمود ساجد اور اشفاق احمد ورک نے خطاب کیا ،تیسرے سیشن میں ڈاکٹر فرحت عباس ،شیخ فرید،ڈاکٹر شازیہ رزاق،اسحق وردگ،نذیر انبالوی اور معروف ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید نے اظہار خیال کیا ۔
کانفرنس کا چوتھا اور آخری سیشن سچی کہانیوں پر مبنی تھا جس میں انس عقیل ،شرمین قمر،ڈاکٹرمزملہ شفیق،محمد شفیق جنجوعہ ڈاکٹر عبدالعزیز،ایڈمرل (ر)محمد آصف سندھیلہ نے اپنی ہمت اور کامیابیوں پر مشتمل قابل فخر سچی کہانیاں سنائیں جس پربہت ساری آنکھیں نم ہوگئیں۔پروفیسر مسرت کلانچوی، ریاض عادل، عبداللہ نظامی نے بھی بچوں کے ادب کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کئے۔ 
صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک منعقدہونے والی اس کانفرنس کے چار سیشن ہوئے جن میں پاکستان بھر سے نمائندہ افراد نے بچوں کے ادب کے حوالے سے اظہار خیال کیا جسے حاضرین نے خوب سراہا ۔ چاروں سیشنز کے درمیان چا ئے، نماز اور کھانے کے لیے وقفہ کیا گیا۔
کانفرس میں شرکت کرنے والے تمام افراد کو شیلڈ ز ، اسناد ،بیگ اور کتب کے تحا ئف بھی دیے گئے۔مقالہ نگاروں اور معزز مہمانوں کو ’’مجید نظامی ایوارڈ‘‘ کتاب ’’سچ کا سفر‘‘ اور تحائف پیش کئے گئے۔
سابق چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل(ر) محمد آصف سندھیلہ نے اپنے ہاتھوں سے دوسری قومی کانفرنس برائے ادب اطفال میں شرکت کرنے پر تمام خواتین و حضرات میں اسناد تقسیم کیں جبکہ مہمانان گرامی صاحبان کو اعززی شیلڈزدی گئیں۔
آخر میں ہر لحاظ سے ایک یادگار بہت ہی خوبصورت ماحول میں کامیاب و شاندار تقریب کے انعقاد پر میں شعیب مرزا ،حافظ مظفر محسن سمیت دیگراحباب کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک پیش کرتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ اس کامیابی کا اصل سہراکانفرنس میں شریک ہونے والے آزاد کشمیر سمیت وطن عزیز کے چاروں صوبوں کے ادیبوں شاعروں خواتین و حضرات کو جاتا ہے جنہوں نے بیس بیس گھنٹوں کا طویل سفر کرکے ا س قومی کانفرنس برائے ادب و اطفال میں چار چاند لگا دئیے،جس سے ایک اور خواب کی تعبیرمکمل ہوئی۔
میری اکادمی ادبیات اطفال،پاکستان چلڈرن میگزین سوسائٹی والوں سے التماس ہے کہ بچوں کے ادب کے حوالے سے آئندہ بھی ایسی کانفرنسز کو جاری رکھا جائے سالانہ کی بجائے ششماہی پروگرام مرتب کئے جائیں۔


2017-05-23

متعلق ویب ڈیسک