شہر میں آلودہ پانی کی فراہمی سے امراض پھیلنے لگے

آلودہ پانی سے شہری وبائی امراض کا شکار ہونے لگے۔ فوٹو: فائل

کراچی: شہر کے مختلف علاقوں میں آلودہ پانی کی فراہمی سے شہری وبائی امراض میں مبتلا ہونے لگے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں آلودہ پانی فراہم کیا جارہا ہے یہ پانی مضرصحت اور ناقابل استعمال ہے لیاری کے مختلف علاقوں آگرہ تاج کالونی، نوا آباد، کھڈا میمن سوسائٹی، بغدادی، بہارکالونی، رانگی واڑہ، سنگولین، موسیٰ لین، ہنگورہ آباد اور آگرہ تاج کالونی میں آلودہ پانی کی فراہمی سے مکین پریشان ہیں علاقہ مکینوں نے واٹر بورڈ کے دفاتر میں کئی بار شکایات درج کرائیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہورہی اور گزشتہ کئی ماہ سے آلودہ اور مضر صحت پانی کی فراہمی جاری ہے رمضان المبارک کے دوران آلودہ، بدبو دار اور مضرصحت پانی کے استعمال سے شہری گردوں سمیت مختلف مہلک وبائی امراض میں مبتلا ہورہے ہیں۔

لیاری کے علاقے ہنگورہ آباد میں پانی کئی کئی دن بعد آتا ہے اور جب آتا ہے تو انتہائی آلودہ ہوتا ہے جسے استعمال نہیں کیا جاسکتا بغدادی اور پرانا حاجی کیمپ میں بھی آلودہ پانی آرہا ہے پانی کی لائنیں بوسیدہ اور پرانی ہوچکی ہیں جبکہ گٹر لائنیں اور سیوریج نظام چوک ہوچکا ہے سیوریج لائن کے پریشر سے گٹروں کا پانی فراہمی آب کی لائنوں میں مکس ہورہا ہے، قائدآباد، زمان آباد، عوامی کالونی میں گزشتہ کئی ہفتوں سے آلودہ پانی فراہم کیا جارہا ہے جس سے شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں مچھرکالونی، شیرشاہ، چاکیواڑہ کے علاقوں کے علاقوں میں آلودہ اور مضر صحت پانی کی فراہمی سے مکین پریشان ہیں واٹربورڈ کے افسران صورتحال کا نوٹس نہیں لے رہے ہیں تاہم آلودہ پانی کی فراہمی بند نہ ہوئی تو علاقے میں وبائی امراض پھوٹ پڑیں گے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آلودہ پانی کی فراہمی کے اسباب کا پتہ چلایا جائے اور ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے ذرائع کے مطابق آلودہ پانی کی فراہمی کی وجہ یہ بھی ہے کہ پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدار شامل کرنے کے عمل کی نگرانی روک دی گئی ہے پانی میں کلورین کی مقدار شامل کرکے پانی کو محفوظ بنایا جاتا ہے تاہم محکمہ صحت اور واٹر بورڈ حکام پر مشتمل انسداد نگلیریا کمیٹی کے غیرفعال ہونے کی وجہ سے فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین کی مقدار شامل نہیں کی جارہی ہے۔

متعلق نامہ نگار