امریکہ: لاپتہ ہونے والی مسلمان لڑکی کی لاش برآمد

امریکی ریاست ورجینیا میں پولیس کو ایک لاش ملی ہے جس کے بارے میں اس کا ماننا ہے کہ یہ ایک مسجد کے قریب سے لاپتہ ہونے والی 17 سالہ مسلمان لڑکی کی ہے۔ لڑکی کی شناخت نبرا حسین کے نام سے ہوئی ہے اور پولیس کے مطابق ہرنڈن شہر میں ایک ڈرائیور کے ساتھ تنازعے سے قبل اپنی دوستوں کے ہمراہ پیدل چل رہی تھی۔ اس کی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ شخص کار سے اترا اور لڑکی پر حملہ آور ہوا۔ اس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئی۔ ایک 22 سالہ شخص کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حملے کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں ایسے شواہد نہیں ملے جس سے ظاہر ہو کہ یہ ایک نفرت کی بنیاد پر کیا گیا جرم تھا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق نبرا سمیت چار یا پانچ نوجوان لڑکیاں رات کے وقت ایک فاسٹ فوڈ ریستوران گئی تھیں۔ مقامی وقت کے مطابق رات چار بجے سڑک پر چلتے ہوئے ان کا سامنا ایک ڈرائیور سے ہوا تھا۔

ایک مقامی کمیونٹی سینٹر ڈی آل ڈلس ایریا مسلم سوسائٹی (ایڈمز) کا کہنا ہے اس کے ارکان نے ان لڑکیوں کو دیکھا تھا اور انھیں ان کی عمارت میں جانے کا کہا تھا۔ لیکن نبرا پیچھے رہ گئی اور بعد میں انھوں نے اس کے لاپتہ ہونے کے بارے میں انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ ایک 22 سالہ شخص کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے بعدازاں پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے ڈرائیور ڈارون مارٹنیز ٹوریز کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک تالاب سے انھیں نبرہ کی لاش ملی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک بیس بال کا بلا بھی برآمد ہوا ہے۔ لاش کی صحیح شناخت اور موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم بھی کیا جائے گا۔


Comments

‘ہم سب’ کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا ‘ہم سب’ کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی کی دیگر تحریریں

بی بی سی کی دیگر تحریریں

متعلق ویب ڈیسک