چاول سے گلوکوز بنانے کیلیے ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری

جدید ترین پلانٹس نصب، ٹوٹا چاول سے تیار کردہ گلوکوز امریکا ویورپ برآمد کیا جائے گا۔ فوٹو: فائل

جدید ترین پلانٹس نصب، ٹوٹا چاول سے تیار کردہ گلوکوز امریکا ویورپ برآمد کیا جائے گا۔ فوٹو: فائل

کراچی: پاکستانی کمپنی میٹکو فوڈز ویلیوایڈیشن کو فروغ دیتے ہوئے چاول سے گلوکوز تیار کرنے کے لیے جدید ترین پلانٹس میں ایک ارب 35کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گی جبکہ مقامی سطح پر ٹوٹہ چاول سے تیار کردہ گلوکوز امریکا اور یورپی ملکوں کو ایکسپورٹ کیا جائے گا۔

میٹکو فوڈز کے ڈائریکٹر فیضان علی غوری نے ایکسپریس کو بتایا کہ پاکستان میں رائس سے تیار کردہ گلوٹن فری گلوکوز کی امریکا، یورپ، آسٹریلیا  میں بڑی مانگ ہے پاکستان میں بھی کنفیکشنری اور شیرخوار بچوں کے لیے غذا کی تیاری میں مکئی سے حاصل کردہ مٹھاس کے مقابلے میں چاول کے گلوکوز کے استعمال کے بہت امکانات ہیں جس کی وجہ سے ان کی کمپنی نے ابتدائی طور پر 10ہزارٹن گنجائش کا پلانٹ کراچی میں نصب کیا ہے جس پر 35کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

یہ پلانٹ رواں سال پیداوار کا آغاز کردے گا جبکہ اگلے مرحلے میں 2019تک مزید 20ہزار ٹن گنجائش کا اضافہ کیا جائے گا جس پر لگ بھگ ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی چاول سے تیار کردہ گلوکوز یورپ اور امریکا کو ایکسپورٹ کرے گی جہاں اس وقت اس کی قیمت 1100ڈالر فی ٹن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رائس گلوکوز کی پاکستان میں بھی ایک لاکھ ٹن کی مارکیٹ ہے اور میٹکو فوڈز پاکستان میں بھی 10سے 15 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل کرے گی۔

فیضان غوری نے بتایا کہ پاکستان میں کھانے پینے کی اشیا کی طلب میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے یہی وجہ ہے کہ میٹکو فوڈز نے اپنے پورٹ فولیو میں رائس کے علاوہ دیگر پراڈکٹس کا بھی اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میٹکو فوڈز اپنی پیداواری استعداد میں اضافے اور رائس گلوکوز کی پیداوار بڑھانے کے لیے اسٹاک مارکیٹ سے ایک ارب روپے کا سرمایہ حاصل کرے گی جس کے لیے رواں سال ستمبر تک آئی پی او کے ذریعے حصص فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

ڈائریکٹر میٹکو فوڈز نے بتایا کہ ورلڈ بینک کے ذیلی ادارے آئی ایف سی کی میٹکو فوڈز میں 20فیصد شراکت داری قائم رہے گی۔ آئی ایف سی کی سرمایہ کاری اور شراکت کی وجہ سے میٹکو فوڈز کو اپنے سسٹمز بالخصوص گورننس کو عالمی معیار کے مطابق لانے میں مدد ملی ہے اور میٹکو فوڈز نے پاکستان کے رائس سیکٹر میں تحقیق اور نئے رجحانات کی روایت کو فروغ دیا ہے۔

یاد رہے کہ چاول سے تیار کردہ گلوکوز کنفیکشنری آئٹمز کے علاوہ ادویہ، شیرخوار بچوں کی غذا اور دیگر خوردنی اشیا کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ رائس گلوکوز نان جی ایم او اور کسی بھی قسم کی الرجی کے امکانات سے پاک ہونے کے ساتھ لیبل فرینڈلی ہوتا ہے اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

 

متعلق امتیاز کاظمی