بھارتی کوچنگ اسٹاف کا تنازع شدت اختیار کرگیا

اس سارے معاملے کو ڈریوڈ اور ظہیر کی توہین بھی قرار دیا جارہا ہے۔ فوٹو: فائل

اس سارے معاملے کو ڈریوڈ اور ظہیر کی توہین بھی قرار دیا جارہا ہے۔ فوٹو: فائل

نئی دہلی:  بھارت میں کوچنگ اسٹاف کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کرنے لگا، معاملے کے حل کیلیے بی سی سی آئی کی خصوصی کمیٹی اور نئے کوچ روی شاستری کے درمیان منگل کو میٹنگ ہوگی۔

بی سی سی آئی کی جانب سے پہلے روی شاستری کو کوچ بنانے کے ساتھ ظہیر خان کو بولنگ اور راہول ڈریوڈ کو بیٹنگ کوچ کی ذمہ داریاں سونپنے کا بھی اعلان کیا گیا مگر بعد میں یہ خبریں سامنے آئیں کہ شاستری اپنا کوچنگ اسٹاف خود رکھنا چاہتے اور وہ ظہیر و ڈریوڈ کو ذمہ داری دینے سے متفق نہیں ہیں، اس پر بی سی سی آئی نے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ ڈریوڈ اور ظہیر کی تقرری کے بارے میں صرف سفارش کی گئی تھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا، اس اس سارے معاملے پر بورڈ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اس تنازع کے حل کیلیے بی سی سی آئی نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں سپریم کورٹ کی مقرر کردہ کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کی ممبر ڈینا ایڈلجی، بی سی سی آئی ے صدر سی کے کھنہ، قائم مقام سیکریٹری امیتابھ چودھری اور چیف ایگزیکٹیو راہول جوہری موجود  ہوں گے، اس خصوصی کمیٹی کی  منگل کو روی شاستری کے ساتھ خصوصی میٹنگ ہونا ہے جس میں شاستری کا نقطہ نظر جاننے کے ساتھ معاملے کا موزوں حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔

دوسری جانب اس سارے معاملے کو ڈریوڈ اور ظہیر کی توہین بھی قرار دیا جارہا ہے تاہم کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کے سابق ممبر وکرم لامیے کا کہنا ہے کہ یہ سارا تنازع دراصل سابق کوچ انیل کمبلے اور کپتان انیل کمبلے کے درمیان ایشو کی وجہ سے پیدا ہوا، تب ہی اس معاملے کو عمدگی سے سنبھال لیا جاتا تو یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی۔

کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹرز کے ہی ایک سابق ممبر رام چندرا گوہا کا کہنا ہے کہ انیل کمبلے کے بعد اب ڈریوڈ اور ظہیر خان کی توہین کی جارہی ہے، یہ تینوں ہی بھارتی کرکٹ کے عظیم سپوتوں میں سے ہیں اور کسی بھی طرح عوامی سطح پر ان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے۔

 

متعلق صالیحہ ناصر