لگتا ہے اب استعفیٰ دیا نہیں بلکہ لیا جائے گا: فواد چوہدری

سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ کی سماعت میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ آج درخواست گزاروں کے دلائل مکمل ہوں گے اور کل نواز شریف اور ان کے بچوں کے وکیل دلائل دیں گے۔

جے آئی ٹی اسی نتیجے پر پہنچی جس پر پہلے سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز پہنچے تھے۔

فواد چودہری نے کہا کہ جعل سازی کے جرم میں شریف خاندان کو قید کی سزا کا سامنا ہے اور پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے سپریم کورٹ سے نواز شریف کو طلب کرکے جرح کی اجازت مانگتے ہوئے عدالت سے درخواست کی ہے کہ آرٹیکل 62, 63 کے تحت وزیراعظم کو نااہل کیا جائے ۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ قطری خط جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا، وزیراعظم نے پاکستان سے پیسے کما کر بیرون ملک اپنے بیوی بچوں کو پراپرٹیز خرید کر دیں، لندن فلیٹس کی خریداری میں کالا دھن استعمال ہوا، ہل میٹل کے منافع کا 88 فیصد نواز شریف کو مل رہا ہے، وزیراعظم کے پاس آخری دن ہے کہ استعفیٰ دینگے یا نا اہل ہونا پسند کریں گےلیکن اب ایسا لگتا ہے کہ استعفیٰ دیا نہیں بلکہ لیا جائے گا۔

پی ٹی آئی ترجمان نے مزید کہا کہ برٹشن ورجن آئی لینڈ کی رپورٹ کے مطابق ثابت ہوگیا کہ مریم نواز بینیفیشل اونرہیں، انہیں اب فوجداری مقدمات کا سامنا ہے اور 10 سال کی نااہلی اور 7 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے، صحافیوں کی عالمی انجمن ’آئی سی آئی جے‘ نے جو کہا تھا وہی نتائج جے آئی ٹی نے دیے، ہل میٹل سمیت 10 کمپنیز کو کالا دھن سفید کرنے کیلیے استعمال کیاگیا اور حسین نوازنے ہل میٹل سے نوازشریف کوایک ارب سے زیادہ رقم بھیجی۔

متعلق امتیاز کاظمی