گوشہء تابش کی شامِ خوش ادا

4 days ago
0

گوشہء تابش کی شامِ خوش ادا
تحریر و تہذیب؛ سعید احمد سلطان، صحرائے چولستان، بہاول پور پاکستان
محبت بھری محفلیں عجب طلسماتی کیفیت و تاثیر رکھتی ہیں، ان کی سنگت و صحبت میں رہنے والے قدر ت کے دلآویز، عطر بیز جذبوں سے آشنا ہوتے، انوکھے محسوسات سے لطف اندوز ہوتے اور دلنواز رنگوں کی پھوار میں بھیگتے رہتے ہیں ۔
محبت بھری محفلیں کب سجتیں اور کب سجائی جاتی ہیں؟
اس وقت جب متوالے دل والے دوست، عزیز اور ہم پیشہ و ہم مشرب و ہمراز لوگ مل بیٹھنے کا کوئی بہانہ تراش لیں،قدرت کی طرف سے میّسر وقت میں ساتھ نبھانے کا پیمان باندھ لیں، دل میں یہ ایقان باندھ لیں کہ لمحہ ہائے موجود کو اپنی دسترس میں رکھتے ہوئے دوستوں اور دل والوں کے ساتھ خوشیاں بانٹنی ہیں۔
خوشی کی قلّت کی اکثر شکایت کی جاتی ہے، البتہ اگر دامن سے لپٹے ہوئے لمحات کو بدلے ہوئے اندازِ نظر کے ساتھ دیکھا جائے ، مثبت فکر کے ساتھ جانچا اور پرکھا جائے تو کوئی ایسی صورت نہیں ہوتی کہ ہمیں اپنے چاروں طرف مہکتے، مسکراتے پھول نہ دکھائی دیں۔ کہا جاتا ہے خوشیاں ہمارے چاروں طرف ہر پل رقصاں رہتی ہیں ، بس ان کو دیکھنے ، تلاش کرنے والی نظروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تب دل بھرا بھرا اور موسم کھرا کھرا دکھائی دیتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار گوشہء تابش میں بزمِ ثقافت پاکستان کے ادبی پڑاؤ میں بطور مہمانِ خصوصی تشریف لائے ہوئے، بہاول پور کے عظیم براڈ کاسٹرجناب ساجد حسن درانی نے کیا جو ادبی پڑاؤ میں پہلی بار شرکت کر رہے تھے۔
جناب ساجد حسن دُرّانی نے اپنے سفر کا آغاز اس وقت کیا تھا جب ریڈیو پاکستان بہاول پور کا ابتدائی سفر شروع ہوا ،جب یہاں کام کرنے والوں کو پچیس روپے کا چیک ملا کرتا تھا، جب یہاں کی ہواؤں اور فضاؤں میں آوازیں برقی لہروں پر سوا ر ہو کر سماعتوں تک رسائی حاصل کرنے لگیں تھیں۔تو انہوں نے ان دنوں اپنے راستے کا چناؤ کیا۔پہلے اناؤنسر، کمپئیر، نیوز ریڈر اور ڈرامہ آرٹسٹ کے طور پر آئے۔ درمیان میں چند برس کا وقفہ آیا تو بطور پروڈیوسر نیا سفر شروع ہوا۔ خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر ترقی کرتے کرتے کنٹرولر کے عہدے تک پہنچے اور وہیں سے سال دو ہزار سولہ میں ریٹائر منٹ ہوئی۔ لاہور ریڈیو اسٹیشن کی اعلی انتظامی پوسٹ ہر ریڈیو افسر کے لئے ایک خواب ہوتی ہے، ساجد حسن درانی صاحب تین مرتبہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔ سال انیس سو تراسی میں پروڈیوسر بن کر ریڈیو اکیڈمی میں عرصہء تربیت گزارنے والے درانی صاحب کو یہ اعزاز بھی میّسر آیا کہ ریڈیو اکیڈمی کے منصبِ جلیلہ، پرنسپل ، پر فائز ہوئے۔ملک بھر کے ریڈیو اسٹیشنز پر ان کی انتظامی صلاحیتوں کے چرچے رہتے تھے۔اور اب وہ اپنے گھر سوہنے بہاول پور میں آرام و سکون کے دن گذار رہے ہیں۔ 
جناب ساجد حسن درانی نے فرمایا زندگی پھولوں کی چادر، مخمل بچھا راستہ، ہر دم خوشیوں سے سجی بزم نہیں ہے۔ یہاں دشوار گزار راستے ہیں، کانٹوں بھری پگڈنڈیاں ہیں ، گرم دھوپ سے جھلستے اور جھلساتے ہوئے دن ہیں، اور ایسے ہی حالات میں ہمت وروں کو اپنے لئے روشن راستے بنانے اور سنوارنے پڑتے ہیں تب کہیں جا کر شہرت و عظمت کے ایوانوں میں آپ کو مقام ملتا ہے۔
جناب ساجد حسن درانی نے فرمایا کہ ان ساری باتوں سے اپنی تعریف مقصود ہرگز نہیں، بس نوجوانوں کو یہ بتانا ہے کہ ،
ہمتِ مرداں، مددِ خدا
زمانہ انہی افراد کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے جو انسانیت کی بھلائی کے لئے اپنی حیات کا ایک ایک پل وقف کر دیتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان قوم کے دل کی آواز ہے، اس کا سلوگن ’’وقولو للناسِ حُسنا ‘‘ہے۔ اس کے مقاصد،تعلیم ، تفریح اور معلومات کی فراہمی ہیں۔سو ریڈیو والے اسی خدمت کے راستے پر چل کر قوم اور ملک کی خدمت کرتے ہیں۔ آپ اپنے سامنے بلند تر مقاصد رکھ لیں، خلوص کے ساتھ عمل کرنا شروع کر دیں، رب تعالیٰ آپ کو کامیاب فرمائے گا، بس یقینِ کامل ضروری ہے۔ 
بزمِ ثقافت پاکستان کے ادبی پڑاؤ کا باقائدہ آغاز اللہ ربّ العزت کے بابرکت کلام کے ساتھ ہوا، سعادت راجہ شفقت محمود کو ملی۔ صدرِ ذی حشم ، سفیرِ کتاب، سابق پارلیمینٹیرین، ادیب، شاعر، مفکر، صحافی، دانشور،تمغہء امتیاز سیّد تابش الوری نے حروفِ آغاز ادا کرتے ہوئے فرمایا، ادبی پراؤ میں تشریف لانے پر سب کا شکر گزار ہوں۔ ساجد حسن درانی ملک کے ممتاز براڈ کاسٹر، سچے، کھرے انسان اور مہربان دوست ہین یہ بہاول پور کے ایسے سپوت ہیں جنہوں نے ملک کے طول و عرض میں تقریباََ تمام ہی مقامات پرریڈیو کے لئے خدمات سر انجام دیں۔بہت سے نشریاتی تجربات کئے۔بہاول پور کا نام روشن کیا۔ اپنی طویل اننگ خوبصورت انداز میں کھیل کرایک ہنگام کے بعد اب آرام کر رہے ہیں، مگر یہ طے ہے کہ 
فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں اپنا
ہم درانی صاحب کے لئے دعا گو ہیں کہ یہ گھر بیٹھ کر بھی شہرت و عظمت کے ایوانوں میں اپنا وجود ثابت کرتے رہیں۔
آج ہمارے درمیان معروف قانون دان اور جسٹس میاں اللہ نواز کے سپوت میاں محمود نوازموجود ہیں ، ہم انہیں وسعتِ قلب و نظر کے ساتھ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ان کا خانوادہ معروف سیا سی خانوادہ ہے۔
صدرِ ذی وقار نے فرمایا کہ حال ہی میں چھ ستمبر کا دن گزرا ہے۔ یومِ دفاعِ پاکستان ۔ تاریخ کا عظیم دن جب ہم نے ایک شبخون کا مقابلہ کرتے ہوئے لہو کی فصیل تعمیر کر دی تھی، اور پاکستان کی حفاظت کا سامان کیا تھا۔ اہلِ جنوں اپنے شہیدوں کے ایثار و قربانی کی یادیں مناتے ہیں، اور اپنے حوصلوں کو نئی جہت اور نئی زندگی بخشتے ہیں۔
۱۱ ستمبر بانیء پاکستان حضرت قائدِ اعظم محمد علی جناح کی رحلت کا دن ہے۔آپ ایسے رہبر و رہنما تھے جنہوں نے پسماندہ، مفلس، مایوس اور سوئی ہوئی قوم کو بیدار اور مستعد کر کے تمام عقیدوں، سکولوں، فرقوں، سے بالا تر کر کے سیسہ پلائی دیوار بنا دیا ۔ انہوں نے بے پناہ فراست، شجاعت اور دیانت سے انگریز سامراج اور ہندورام راج کو شکست دے کر قوم کی تقدیر بدل دی۔برِّ صغیر کی تاریخ بدلی۔دنیا کا جغرافیہ بدلا، تاریخ کا دھارا بدلا، وقت کا اشارہ بدلا،زندہ قومیں اپنے محسنوں اور شہیدوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔اور ان کے اقوال و افعال کو اپنا کردار بنا لیتی ہیں۔
ستمبر میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم، وحشت، بربریت میں اضافہ ہوا، خونچکاں مناظر نے دل دہلا دئیے، بے شمار مسلمان ممالک بے پناہ وسائل کے باوجود مفلوج ہیں، یہ سبق آموز لمحہء فکریہ ہے، ہمیں سوچنا ہے کہ اتنی بڑی ملّت ہونے کے باجود ہم مائل بہ زوال کیوں ہیں۔ہم اپنی عظمتِ رفتہ کو کیسے بحال کر سکتے ہیں؟
حروفِ آغاز کے بعد نثری سیشن میں عمران لطیف نے افسانچہ پیش کیا۔
شعری سیشن شروع ہوا تو سب سے پہلے جناب رمضان کیفی نے امامِ عالی مقام حضرت حسین ؑ کی بارگاہ میں سلام پیش کیا۔ 
تاریخ میں رقم ہے شہادت حسین کی۔۔۔ہر دل میں بس رہی ہے محبت حسین کی
راجہ شفقت محمود’ ایک یوسف ہی نہیں یہاں برائے فروخت کے مصرعہ اولیٰ سے پوری غزل لائے تھے۔خالد محبوب انوکھے انداز میں آتے ہیں، زبردستی کے قائل نہیں،کہتے ہیں 
دنیا پکڑ کے لائے گی کیوں مجھ کو کان سے۔۔۔بچہ ہوں کیا میں بھاگا ہوا امتحان سے
محسن دوست نے کہا 
چلتے چلتے رستے میں رہ جاتی ہیں۔۔۔پیار کی باتیں جھگڑے مین رہ جاتی ہیں
جناب اشرف خان وسیبی روایات اور رویوں کی عکس گری کرتے ہیں،
تیڈا میڈا ساتھ وے سانول۔۔۔چھیکڑی ایہا بات وے سانول
وقت اساں کَن تھوڑا ہے۔۔۔۔ساڈا اَنت وچھوڑا ہے
جناب قیوم خان سرکش کے ہاں قدیم روایت کے دلکش عکس نظر آتے ہیں۔
ہے فسادِ زر کہیں، جھگڑا کہیں جاگیر پر۔۔۔لڑ پڑے زندان میں دو قیدی مگر زنجیر پر
شدتِ رنج و اَلم سے اور گہرا ہو چلا۔۔۔کچھ مگر حیرت نہیں اپنے خطِ تدبیر پر 
اک عمر کی مہلت طلب کرنے والے جناب افض خان روایت کو جدت کے ساتھ آ میز کر کے زندگی کے سب معاملات کی عمدہ عکاسی کرتے ہیں۔
میں پہلے کوفہ گیا، پھر اس کے بعد مصر گیا۔۔اِدھر برائے عقیدت اُدھر برائے فروخت
پرندے لڑ ہی پڑے جائیدا د پر آخر۔۔۔شجر پہ لکھا ہوا تھا، شجر برائے فروخت
جناب مجیب الرحمان خان بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں گلہائے عقیدت لے کر آتے ہیں۔
اپنی قسمت کھلی ہم مدینے چلے۔۔۔۔لے کے کشکول میں آ بگینے چلے
پیش کرنے کو خدمت میں سرکار کی۔۔۔ہم عقیدت کے لے کر خزینے چلے
میزبانِ مکرم سیّد تابش الوری دلکش اثر انگیز قطعات سناتے ہیں، پھر غزل کی طرف آتے ہیں۔ائیک قطعہ ملاحظہ کیجئے،
سر سیّد نے علم و عمل کی اذان دی۔۔۔اقبال نے کلام سے سب کو جگا دیا
دو قومی نظریے کا جلایا گیا چراغ۔۔۔۔قائد نے اس چراغ کو سورج بنا دیا
ایک اور قطعہ اپنی گہری معنویت کے ساتھ ہمیں لبھاتا ہے۔
ایک نے جو قوم سے وعدہ کیا سچ کر دیا۔۔دوسرے نے سونپ دی جو تھی امانتِ سرزمین
اپنے رب کے روبرو دونوں رہے ہیں سرخرو۔۔قائدِ اعظم تھے صادق، اور صادق تھے امین
سید تابش الوری کی غزل بھی کمال تھی۔سراپا روشنی و جمال تھی۔
آج بھی مدِّ مقابل ہیں ہوا اور دِیا۔۔۔تیرگی اور بڑھی، اور جَلا اور دِیا
روشنی کیسے ہوئی ،کیسے شبِ رقص جمی۔۔۔کس کو معلوم کہ پروانہ جلا، اور دِیا
موسمِ گُل کی ترو تازگی قائم ہی رہی۔۔۔ایک مرجھایا تو فوراََہی کِھلا اور دِیا
سب دِئیے بجھ سے گئے ایک جھماکا سا ہوا۔۔یک بیک چھت پہ نمودار ہوا اور دیا
وہ دیا لے کے بڑے شوق سے آگے نکلا۔۔۔جب دیا اس کا بجھا، میں نے دیا اور دیا
دِئیے سے دِیا جلتا ہے، چراغ سے چراغ روشن ہوتا ہے۔ بزمِ ثقافت پاکستان کے ادبی پڑاؤ میں پہلی بار اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے اختتام کے بعد جناب ساجد حسن درانی تشریف لائے ہوئے تھے، انہوں نے شرکائے پڑاؤ کو اپنے سنہرے ماضی کی کہانی سنانے کے بعد ایک پیغام دیا۔ کیا خوبصورت پیغام تھا، درانی صاحب کی شخصیت کی اس جہت سے یقیناًہمارے ریڈیو کولیگ اور پیارے دوست سجاد پرویز بھی آشنا و آگاہ نہیں ہوں گے جو آجکل آزادی ٹرین کے ساتھ گذارے گئے روز و شب کا افسانہ لکھ رہے ہیں۔ درانی صاحب نے کہا،
’’لوگ خواب دیکھتے ہیں اسلام آباد ریڈیو کا ایس ڈی رہنا اور بننا،مجھے یہ اعزاز ملا۔ یہ خود ستائشی نہیں، بتلانا یہ مقصود ہے کہ میں اس صحرا سے تعلق رکھتا ہوں جہاں زندگی کرنے کے لئے بوند بوند پانی تلاش کرنا پڑتا ہے، اور جہاں دور دور تک ویرانوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ میں یہاں تحریک دینے آیا ہوں ، میں بہاول پور کا پڑھا ہوا ہوں ، یہ پسماندہ نہیں دُور افتادہ علاقہ ہے، پسماندگی کے ذکر سے احتراز فرمائیے۔پسماندگی ہوتی تو آپ اپنے جذبوں کو جوش بھرے لفظوں کی اَجرک نہ پہناتے، ہار سنگھار نہ کر پاتے، اپنی حیات کے ہر ایک لمحے کو بہار نہ کر پاتے۔ ہماری سوچ میں صحرا کی وسعت ہے، بہاروں کے رنگ ہیں، ہمارے جذبے سچّے ، ہمارے موسم نویکلے ، ہمارے منظر سوہنے اور سجیلے ہیں۔‘‘
’’آج کا پڑاؤ ریڈیو پروگرام تھا کہ یہاں تہذیب، ثقافت، معاشرت،علمیت اور تربیت کا بھر پور سیشن دیکھنے اور سننے کو ملا، رب کرے یہ محفلیں یونہی آباد رہیں ، ہاں ہم ایک دوسرے کو تسلیم کرنا ضرور سیکھیں، محبتیں بانٹیں اور اکھٹے رہیں۔‘‘ 
زندگی سانسوں کی تال پر رقص کرتی ہے، بزم گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ چلتی ہے، وقت اشارہ کرے تو مھفلین اُجڑنے کا وقت آجاتا ہے۔ رات بھیگنے لگی تھی، بزمِ ثقافت پاکستان کا ادبی پڑاؤ بھی سمٹنے لگا، کہ یہی زندگی اورزندگی کو قائم رکھتی سانسوں کا چلن ہے۔ 


2017-09-25

متعلق ویب ڈیسک