ستمبر کے سفر میں شامِ شہاب کی رعنائی

8 days ago
0

ستمبر کے سفر میں شامِ شہاب کی رعنائی
تحریر و تہذیب ؛؛ سعید احمد سلطان صحرائے چولستان بہاول پور پاکستان
یہ ستمبر دو ہزار سترہ کی دس تاریخ تھی۔شام کے سائے تواتر کے ساتھ محوِ سفر تھے۔ان سایوں کی سنگت میں بہت سارے گذرے ہوئے دنوں کی خوشبوسانسیں لے رہی تھی۔یہ خوشبو ایثار و اقرار کے متوالے دنوں کی رفاقت میں رہنے والی خوشیوں کی تھی جن کے وجود اور سجود نے سنّتِ براہیمی کو رواں کیا تھا اور اہلِ ایماں کو حج کی سوغات کے ساتھ قربانی کا تحفہ ملا تھا۔
قربانی بھی کیا جذبہ اور شوق ہے۔ 
ربِّ کُل جہان نے اپنے دوست کو خواب دکھلایا ۔وہ اپنی پیاری چیز رب کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ خواب تسلسل کے ساتھ تین دنوں تک یقین کی جھلک دکھلاتا رہا ، آزماتا رہا۔ بالآ خر پختہ یقین نے ہمراہی اختیار کی اور خلیل اللہ علیہ السلام ، رفیقِ جان ذبیح اللہ کو ساتھ لے کر رب کی رضا کی تکمیل کے لئے گھر سے قربان گاہ کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ بیٹے کو رب کی رضا بتلا چکے تھے، فرمانبردار فرزند نے فوراََ کہا کہ رب کا حکم بجا لائیے۔
شوق کے سفر میں شمار ہوتے قدموں نے منزلِ یقین کو قریب لانے کا عہد استوار کر رکھا تھا ، تو ورغلانے والی زبان بھی بد خوئیوں میں مصروف تھی۔ اس نے تین مقامات پر شوق کی راہ کھوٹی کرنے کے لئے ڈاکہ ڈالا اور ہر جگہ ہر مقام اور موڑ پر منہ کی کھائی ، وہ تسلسل آج بھی جاری ہے، مسافرانِ رہِ شوق منیٰ کی وادی میں جب رات کو قیام کرتے ہیں تو اکیس کنکریاں بھی چُن لیتے ہیں اور اگلے دن وہ کنکریاں بہت غُصّے کے ساتھ تین جمروں پر مارتے ہیں کہ حکم اور سنّت یہی ہے۔
باپ بیٹا رواں دواں تھے، منزل پر پہنچے، آنکھوں پر پٹّی باندھی، تیز دھار چھری معصوم حلقوم پر پھیر دی، مگر دھار کو حکم تھا کہ بال بھی بانکا نہیں کرنا، وہ کیسے اقرار کی ریشمی ڈوری توڑ دیتی، غصے میں چھری کو مارا گیا تو پتھر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا مگر وہی تیز دھار چھری معصوم ذبیح اللہ کی ایک نس کو بھی چھو نہ سکی، بالآخر چھری چلی اللہ اکبر کی صدا بلند ہوئی، آنکھیں کھلیں تو جنّت سے اتارا گیا دُنبہ ذبح ہو چکا تھا اور اَدائے خلیل علیہ السلام رب تعالیٰ کو پسند آچکی تھی سو ہر برس حج اورعید الاضحی کا تحفہ عطا کر دیا گیا اور اس میں جانور قربان کرنے کی سنت بھی جاری کر دی گئی۔ پسندیدہ سنتیں صدیوں کا سفر کرتی ہیں،تو قربانی کی سنت بھی مسلسل سفر میں ہے، ہر برس تجدیدِ عہد کا سامان لے کر آتی ہے کہ ہمیں دوسروں کی خواہشات اور ضروریات کو اپنی ترجیحات اور خواہشات پر مقدم رکھنا ہے کہ یہ انسانیت ہے، کہ یہ حسین معاشرت کی حقیقی روح ہے، کہ یہ زندگی ہے۔
تو اس مہینے کی دو ستمبر کو ہم اہلِ پاکستان نے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ عید الا ضحی منائی، قربانی کی اور گوشت ان غریبوں، ناداروں اور مستحقین میں تقسیم کیا جو سارا سال بس انہی دنوں میں اس ذائقے سے لطف اندوز ہونے کی امیدیں باندھے رکھتے ہیں۔
ہمار ی ملّی تاریخ میں اسی مہینے میں ایک دن ایسا بھی ہے جو ہمارے حوصلوں کو مہمیز اور جذبوں کو انگیز کرنے آتا ہے، جو ہمیں بتلانے آتا ہے کہ آہنی عزم اور پختہ ارادے قوموں کو سیسہ پلائی دیوار بنا دیتے ہیں، اور ان آہنی دیواروں سے سب مخالفانہ عداوتیں سر ٹکرا ٹکرا کے اپنی موت آپ مر جاتی ہیں۔ 
وہ دن چھ ستمبر کا ہے، جس سے جُڑی عزم و ارادوں سے بھری یادیں سال انیس سو پینسٹھ میں وجود میں آئیں تھیں کہ اس د ن صُبح سویرے بزدل، عیّار، مکّار اور متعصب دشمن نے ہمارے حوصلوں کو للکارا تھا، اور ہمیں احساس دلانے کی کوشش کی تھی کہ، ہماری آزادی اور بقا کو کسی بھی وقت ناپاک ارادوں کی نذر کیا جا سکتا ہے، تو اس کا منہ توڑ جواب دیا تھا ہماری قوم اور ہماری افواج نے، اور سترہ روزہ جنگ نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ہم سیسہ پلائی دیوار ہیں، اور کوئی ہماری آزادی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی مذاق نہیں کر سکتا۔ 
قوموں کی زندگی میں بعض دن بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔چھ ستمبر کا دن ہماری رگ و پَے میں جوش و ولولہ بھر دیتا ہے۔ہمیں عزم و ہمت کے لازوال جذبوں سے معمور کر دیتا ہے، ہماری رگوں میں لہو دوڑا دیتا ہے، ہمیں ہمیشہ ایک کر دیتا ہے۔ سو ایسے دنوں کو بڑے اہتمام سے منانا چاہئیے کہ نسلِ نوع اپنے آباء کی قربانیاں یاد رہ سکیں جو انہوں نے ان کی بقا اور سلامتی اور تحفظ کے لئے دی ہوتی ہیں۔
دارالسرور بہاول پور کی زرخیز فضاؤں اور خوشبو بھری ہواؤں میں شہاب دہلوی اکیڈمی ایسا پلیٹ فارم ہے جو تہذیبی رویّوں، ثقافتی سوچوں، معاشرتی روایتوں کی حفاظت اور ترویج کی خاطر اہلِ فکر و دانش کو جمع کر کے ان کے افکار سے ہر ایک کو متعارف کرانے کی بھرپور سعی کرتا ہے۔اس علمی، ادبی، صحافتی اور ثقافتی تنظیم کے روحِ رواں پروفیسر ڈاکٹر سیّد شاہد حسن رضوی ہیں ، جو اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کی سربراہی کا منصب نبھا کر ،فرائضِ منصبی سے فارغ ہو کراب فکر و تدبّر کی تدبیریں سوچنے اور انہیں کام میں لانے کی سعی فرماتے رہتے ہیں۔ان کی چھتر چھایا تلے ہر شمسی مہینے کی پہلی اتوار کو فکر و علم و دانش کی یہ سبھا سجائی جاتی ہے۔ 
ماہ ستمبر دو ہزار سترہ آغاز ہوا تو عید الا ضحی نے دل دریچوں پہ دستک دی، یومِ دفاعِ پاکستان کا ولولہ انگیز لمحہ طلوع ہوا تو اتوار کا دن نہیں تھا ، سو دوسری اتوار کو یہ محفل سجائی گئی جس میں خوشیوں اور خوابوں کے رنگ تھے، اور جس کی صدارت شہاب دہلوی اکیڈمی کے پہلے جنرل سیکریٹری، معروف مصنف، محقق اور دانشور جناب عارف جان فرما رہے تھے۔ مہمانِ خصوصی کی نشست پر معروف آرٹ ڈیزائینر، فوٹو گرافر، کوہ پیما جناب بلال جاوید جلوہ افروز تھے۔
تقریب کا باقائدہ آغاز اللہ ربّ العزت کے بابرکت نام کے ساتھ ہوا، تلاوتِ کلامِ پاک کرنے کی سعادت سیّد حسان رضوی کے حصے میں آئی اور بارگاہِ نبوّت میں گلہائے عقیدت سیّد شہیر حسن رضوی نے پیش کئے۔پروفیسرسیّد طالب حسین طالب نے پروگرام کی کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے تمام شرکا ئے شام کو خوش آمدید کہا اور عید مبارک دیتے ہوئے یومِ دفاعِ پاکستان کو جوش و ولولے کے ساتھ منانے پر تہنیت پیش کی۔
عالمی سطح پر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر بدھ مت لوگوں کی جانب سے بے انتہا بربریت اور قتل و غارتگری کے سلسلے نے اہلِ ایمان کو آہوں اور آنسوؤں سے لبریز کر رکھا ہے، عالمی برادری کی غفلت اور نظر انداز کرنے کی پالیسی کی وجہ سے مظالم کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے، مظلوم روہنگیائی مسلمانوں پر جاری مظالم کی جانب عالمی مقتدرین کی توجہ دلانے اور سلسلہء ستم روکنے کے لئے سیّد طالب حسین طالب، جناب عارف جان،جناب بلال جاوید، ملک ریاض حسین اعوان، جناب عبدالخالق قریشی، پروفیسر ڈاکٹر رمضان طاہر، اور دوسرے شرکاء نے اظہارِ یکجہتی کی خاطر گفتگو کی۔
صادق پبلک سکول بہاول پور کے اساتذہ بہت قابل اور منفرد اندازِ فکر کے حامل ہیں جناب سلیم الرشید بھی انہی میں سے ایک ہیں، تدریسی فرائض کے علاوہ تحریر کی دنیا میں بھی نام کمانے میں مصروف رہتے ہیں۔ انشائیہ ان کا من پسند موضوع ہے ، اب کے انہوں نے سوچ کے موضوع پر دلچسپ انداز میں اپنا انشائیہ پیش کیا۔
سیّد مشہود رضوی صادق پبلک سکول بہاول پور کے سابق پروفیسر اور شاعر ہیں، حضرت شہاب دہلوی کے فرزندِ ارجمند۔ انہوں نے اپنے بابا کی رحلت کے لمحات کو بھیگے لہجے اور نم آنکھوں کے ساتھ بیان کیا۔عنوان تھا،’’حضرت شہاب دہلوی کا فیضانِ نظر‘‘۔
شہاب صاحب صحافی تھے، مدیر تھے، شاعر تھے، مفکر تھے، دانشور تھے محقق تھے، ان کی فکر اردو زبان سے محبت بلکہ والہانہ محبت سکھاتی تھی، ان کے افکار کو اب ان کے لائق فرزندگان بڑی محبت، خلوص اور سچائی کے ساتھ پھیلانے میں مصروف ہیں، شہاب دہلوی اکیڈمی انہی کی سوچ کے تسلسل کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔
شعری سیشن میں شام کے الہام نے جناب محمد ارشد عنبر،جناب افضال الرحمان ہاشمی، جناب اشرف خان، پروفیسر ڈاکٹر محمد رمضان طاہر، جناب قیوم خان سرکش کے حسنِ تأیل کو سُنا۔چند نمونے دیکھئے۔
سب تجھے محفل میں تکتے رہ گئے۔۔۔ہم مگر آنکھیں ہی ملتے رہ گئے( افضال ہاشمی)
جیہڑا ویندے ولدا ناہیں۔۔۔مِٹیاں ہیٹھ کیا ہے سانول( اشرف خان)
زندگی کے عذاب ہوتے ہیں۔۔۔یہ جو ٹوٹے سے خواب ہوتے ہیں(رمضان طاہر)
ہم ہواؤں میں اُڑتے پھرتے ہیں۔۔۔جب تصور میں جناب ہوتے ہیں
جرم والوں سے پوچھتے ہی نہیں۔۔۔صرف ہمارے حساب ہوتے ہیں
طرب رساں گہے، گہے اضطراب اللہ ہُو۔۔فروغِ سینہء رباب اللہ ہُو(قیوم سرکش)
چمن سے لے کے چلے آستینِ خوں گشتہ۔۔۔مآلِ کثرتِ فصلِ گلاب اللہ ہُو 
شامِ خوش کلام کا سفر جاری تھا۔مہمانِ خصوصی جناب بلال جاوید نے فرمایا ، شکر گزار ہوں کہ اکیڈمی نے مجھے یہ شرف بخشا، یہ گھرانا علمی روایات کو احسن انداز میں آگے بڑھا رہا ہے، ادارے کی قابلِ ستائش خدمات کو سلام پیش کرنا فرض بنتا ہے۔ یہاں حاضرین و سامعین کو ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کا موقع ملتا ہے ، اور یہی وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور علومِ مفیدہ کا بھرپور انداز میں پرچار کرتے ہوئے نئی نسل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پاکستان دے دیں۔سی پیک عظیم الشان منصوبہ ہے، ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ روہنگیائی مسلمانوں کا مسئلہ عالمی مسئلہ ہے،اگرچہ ہمارے دل تمام مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، لیکن ہمیں مشترکہ مسلم فوج کی طرف دیکھنا چاہئیے۔ چھتیس ممالک کی فوج اور یو این او کو انسانیت کی اس تذلیل پر کیوں چُپ لگی ہوئی ہے؟ہمیں بحیثیت قوم سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہے، ایسا نہ کہ نفرت کی آگ میں ہم اپنا گھر جلا بیٹھیں۔
صدرِ ذی وقار جناب محمد عارف جان نے اپنے صدارتی کلمات کا آغاز ایک شعر سے کیا اور کہا،
مٹّی نہ پھرول جوگیا۔۔۔یار گواچے نئیں لبدے
یہ شعر جناب مشہود حسن رضوی کی طمانیتِ قلبی کی خاطر تھا، جنہوں نے اپنے والدِ گرامی کی ابدی رخصتی کو نمناک لہجے اور بھیگی پلکوں سے بیان کیا ہے، موت برحق ہے، ہر ذی روح کو اللہ سے ملنا ہے، شہاب صاحب کے لئے یہ کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ان کی فکر و دانش کے سوتے خشک نہیں ہوئے، ان کا فکری سفر شہاب دہلوی اکیڈمی کی صورت جاری ہے، اور آپ سب اس سفر میں ایک قافلے کی صورت اختیار کئے ہوئے ہیں ، میں بھی اسی قافلے کا ایک مسافر رہا اور ہوں، اور میری شمولیت اس لئے ہوئی کہ ایک رات شہاب صاحب میرے خواب میں تشریف لائے، مجھے گلے لگایا ۔ یہ میرے لئے ایک اشارہ تھا ۔میں ڈاکٹر شاہد رضوی صاحب کے پاس حاضر ہوا اور شہاب فورم کو دوبارہ بحال کرنے کی درخواست کی۔ میری درخواست پر فورم پھر سے اکھٹا ہوا، دانشور جمع ہوئے، اہلِ قلم نے پذیرائی بخشی اور رُکا ہوا سفر ایک بار پھر رواں ہو گیا، اور وہ سفر خوبصورت تسلسل کے ساتھ جاری ہے، شامیں آباد ہو رہی ہیں۔
جناب عارف جان نے سیّد عابد حسن رضوی کو منصبِ فضیلت پر گریڈ اٹھارہ میں فائز ہونے پر مبارک باد پیش کی۔
شوق کا سفر جاری تھا کہ گوشہء شہاب سے متصل خانہء خدا کے بلند میناروں سے اللہُ اکبر، اللہُ اکبر کی الوہی صدا بلند ہوئی اور شام نے رختِ سفر باندھ لیا۔ 


2017-09-25

متعلق ویب ڈیسک