کسّیاں دا پانی، پروین ملک اور حلقہء دانش

3 days ago
0

کسّیاں دا پانی، پروین ملک اور حلقہء دانش
زاہد حسن
یہ اعزاز بھی حلقہء دانش گورمانی مرکزِ زبان و ادب کو ہی جاتا ہے کہ انگریزی اور اردو کے ساتھ قومی زبانوں کے لکھنے والوں کے ساتھ بھی وہاں تقریبات کا اہتمام بڑے تسلسل کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔ ابھی ۱۵/ستمبر کو ’’سندھ کی تین بہترین آوازیں‘‘ کے عنوان کے تحت ہونے والے پروگرام پہ بات چیت جاری ہی تھی کہ ۲۲/ستمبر ۲۰۱۷ء کو ’’ہماری ثقافت اور ادب: چند دریچے اور جہات‘‘ کے عنوان کے تحت پنجابی زبان وادب کی نمایندہ ادیب پروین ملک کی آپ بیتی ’’کسیاں دا پانی‘‘ پر ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ ’’کسیاں دا پانی‘‘ پر پروفیسر سعید بھٹا اور اقبال قیصر نے سیر حاصل گفتگو کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض پروفیسر معین نظامی نے سر انجام دیے۔
پروین ملک نے اپنی آپ بیتی سے کچھ صفحات پڑھ کر سنائے۔ اس آپ بیتی میں درج معلومات کے مطابق پروین ملک کی پیدائش ۸/اگست ۱۹۴۶ء کو شینہ باغ خورد ضلع اٹک میں ملک فضل داد اور نُور بھری کے گھر ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے سکول اور میٹرک سے بی اے تک اٹک سے حاصل کی۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے شعبہء صحافت میں ایم اے کیا۔ کہانی لکھنے کا آغاز ۱۹۷۰ء میں کیا۔ ساتھ ہی ساتھ ریڈیو پاکستان سے پروگرام بھی پیش کرتی رہیں۔ ۱۹۸۴ء میں ان کی کہانیوں کا پہلامجموعہ’’کیہ جاناں میں کون‘‘ چھپا۔ ۱۹۹۶ء میں اردو ناول ’’آدھی عورت‘‘ شائع ہوا۔ ۱۹۹۹ء میں ارون دتی رائے کے ناول کا اردو ترجمہ ’’سسکتے لوگ‘‘ کے نام سے کیا۔ ۲۰۰۴ء میں پنجابی کہانیوں کا دوسرا مجموعہ’’نکے نکے دُکھ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ قرۃ العین حیدر کے ناولٹ ’’اگلے جنم موہے بٹیانہ کیجو‘‘ کا پنجابی ترجمہ ’’مائے نی میں کیہنوں آکھاں‘‘ اور ’’پینڈے‘‘ کے عنوان کے تحت کرغزستان اور انڈیا کا سفر نامہ’’ پنجابی ادب‘‘ میں قسط وار چھپ چکا ہے۔ علاوہ ازیں وہ پاکستان پنجابی ادبی بورڈ کی سیکرٹری اور ’’تماہی پنجابی ادب‘‘ کی ایڈیٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ’’کسیاں دا پانی ‘‘ ان کی آپ بیتی ہے۔ جس میں انھوں نے اپنی پیدائش سے لے کر ۲۰۱۴ء تک کے حالات و واقعات قلم بند کیے ہیں یوں یہ کتاب کم و بیش اڑسٹھ برس پر محیط ہے۔ کتاب میں انھوں نے پنجابی کے ’’چھاچھی لہجہ‘‘ کو کمال خوب صورتی کے ساتھ برتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب کے مطالعہ کے دوران آپ ضلع اٹک، راولپنڈی، لاہور اور اُن تمام جگہوں کے اس وقت کے تاریخی، سیاسی، ثقافتی اور سماجی حالات سے پوری طرح آگہی حاصل کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر اس دوران پیش آنے والے سیاسی حالات پر تفصیلی تبصروں کے ساتھ ساتھ اس وقت کی صحافتی اور ادبی زندگی کی بعض تصویریں بھی ملتی ہیں۔
گرمانی مرکزِ زبان و ادب کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس پروگرام میں پنجابی کے نامور سکالر اور محقق اقبال قیصر کا کہنا تھا کہ اس کتاب کی بے شمار خوبیوں کے ساتھ دو خوبیاں اور بھی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ انھوں نے ایک عورت ہونے کے ناتے انھیں تعلیمی اور اداراتی سطح پر درپیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل کا ذکر کر کے نہ صرف یہ کہ نئی نسل کو پاکستان کی سماجی تاریخ سے آگہی بخشی ہے بلکہ اُن کو آگے بڑھنے کے لیے روشن راہوں کی نشان دہی بھی کی ہے۔
پروفیسر سعید بھٹا نے اپنے مضمون میں ’’کسیاں دا پانی‘‘ میں استعمال ہونے والی زبان، اس کے اسلوب اور واقعات کی ترتیب وار حسن بیانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی پنجاب میں جہاں نثر کی روایت ہی بہت کم ہے۔ اس میں ایک عورت کا نثری پیرائے میں اپنی ’’آپ بیتی‘‘ کا تحریر کر دینا کسی معجزے سے کم نہیں۔ ’’کسیاں دا پانی ‘‘ بلا شبہ ایک منفرد اور دیر پا اثرات مرتب کرنے والی کتاب ہے۔
آخر میں سوالات کا سیشن ہوا ، جس میں لمز، کے طلبا و طالبات کے علاوہ لمز کے پروفیسر صاحبان فرخ خاں اور رسول بخش رئیس نے بھی مصّنفہ سے پنجابی کی موجودہ صورت حال، پنجابی کلچر کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنانے کے اثرات و مضمرات اور اس آپ بیتی کے حوالے سے آنے والے ردّ عمل سے متعلق سوالات کیے ۔ جس کے جواب میں پروین ملک کا کہنا تھا کہ یہ حقیت ہے کہ پاکستان میں پنجابی زبان و ادب کی صورتِ حال تشویشناک ہے۔ جس کی ذمہ دار براہ راست حکومتیں ہیں، تاہم اس صورتِ حال میں بھی کچھ ایسے لوگ موجود رہے جنھوں نے پنجابی زبان و ادب کے لیے لازوال خدمات سر انجام دیں جس میں آصف خاں، عین الحق فرید کوٹی ، محمد صفدرمیر، شریف کنجاہی، نجم حسین سیّد، شفقت تنویر مرزا اور بے شمار دیگر نام شامل ہیں۔ آج پنجابی کے حوالے سے صورتِ حال مختلف ہے۔ ماضی میں اگر پنجابی کی آٹھ کتابیں چھپتی تھیں تو اب ہر سال تین سو سے اوپر کتب شائع ہوتی ہیں۔ یقیناًکسی بھی زبان میں تخلیق ہونے والا ادب اپنے خطّے کے کلچر اور اس کی تہذیب و ثقافت سے دور کیسے رہ سکتا ہے۔ پنجابی میں لکھنے والے بھی یہ سارا کچھ اپنی لکھتوں میں پیش کر رہے ہیں۔ جہاں تک ’’کسیاں دا پانی‘‘ کی تخلیق کا ردّ عمل ہے تو آج لمز میں ہونے والی یہ تقریب اس بات کی گواہ ہے کہ یقیناًاس کا ردّ عمل مثبت ہی آیا ہے۔ میں آج کی منتظمین اور شرکاء کی تہہ دِل سے مشکور ہوں کہ انھوں نے میری عزت افزائی فرمائی۔
اپنی نوعیت کے اس عمدہ اور اہم پروگرام میں لاہور بھر سے شہروں، ادیبوں، دانشوروں نے شرکت کی جن میں نامور کالم نگار اور نقاد مرزا محمد یسین بیگ، جواں سال کالم نگار اور ’’آپ کی بات‘‘ کے مدیر ملک محمد شہباز، پنجابی زبان و ادب سے جڑے ظہیر وٹو، صدام حسین، شبنم اسحق، شفق رشید اور دیگر احباب شامل تھے


2017-09-26

متعلق ویب ڈیسک