پاکستانی معیشت زوال پذیر، مہنگائی میں اضافہ اور غربت بڑھے گی، آئی ایم ایف

بیروزگاری کی شرح ایک فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر6.1فیصد ہوجائیگی،پاکستانی معیشت شدیددبائو کا شکار ہے بین الاقتصادی مالیتی فنڈ کی رپورٹ
اگر پاکستانی حکومت آئندہ 9ماہ کے دوران15ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی قرضے کا حصول یقینی نہیں بنائے گی تو بجٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے
کراچی (کامرس ڈیسک) آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی میں 5.6 فیصد اضافے، 15 ارب ڈالر سے زائد کرنٹ اکائونٹ خسارے، افراط زر کی شرح 4.8، بے روزگاری کی شرح 6.1 فیصد رہنے کا پیشگوئی کردی۔ اگر حکومت آئندہ نو ماہ کے دوران 15 ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی قرضے کا حصول یقینی نہیں بنائے گی تو بجٹ خسارہ 6 فیصد سے تجاوز کرسکتا ہے۔ بین الاقوامی مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے جاری کیے جانے والے ورلڈ اکنامک آئوٹ لک (اکتوبر 2017ء) کے مطابق پاکستانی معیشت کے لیے یہ سال اچھا ثابت نہیں ہوگا، ابتدائی تخمینوں کے مطابق وفاقی حکومت رواں مالی سال کے بجٹ میں مقرر کیا جانے والا جی ڈی پی میں 6 فیصد اضافے کا ہدف حاصل نہیں کرپائے گی۔ اس کے برعکس اقتصادی شرح نمو 5.6 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اس کے علاوہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگا جو کہ بڑھ کر 4.8 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ بیرونی ذرائع سے مالی وسائل کے حصول میں کمی کے سبب مالی سال 2017-18ء کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.9 فیصد (15 ارب 58 کروڑ ڈالر) تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح میں بھی 0.1 فیصد اضافہ ہوگا جوکہ 6 فیصد سے بڑھ کر 6.1 فیصد تک پہنچے گی۔ آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق پاکستانی معیشت ایکسٹرنل اکائونٹ کے حوالے سے شدید دبائو کا شکار ہے جبکہ زرمبادلہ کے مسلسل گرتے ہوئے ذخائر اس ضرورت کو مزید اجاگر کررہے ہیں، رواں مالی سال کے بقیہ 9 ماہ کے دوران حکومت کو 15 ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی قرضے کا حصول یقینی بنانا ہوگا بصورت دیگر بجٹ خسارہ 6 فیصد سے تجاوز کرسکتا ہے۔

متعلق ناصر عباس