محکمہ ڈاک چین کے حوالے‘ تیاریاں آخری مراحل میں داخل

ملازمین نے منتقلی کو نجکاری کی شکل قرار دیدیا‘ اقدام کیخلاف احتجاج کی دھمکی دیدی
ادارے کی خالی زمینوں پر کمرشل و شاپنگ پلازے بھی تعمیر کئے جائینگے تاکہ خسارے سے نکالا جاسکے
کراچی (وقائع نگار خصوصی) محکمہ ڈاک کو خسارے سے نکالنے کے لیے چین کے حوالے کرنے کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل، دسمبر تک چینی فرم انتظام سنبھال سکتی ہے، وفاقی وزیر مواصلات کا اعتراف، ادارے کی مختلف یونینوں سے ملاقات، مشروط رضامند کرلیا۔ ملازمین نے منتقلی کو نجکاری کی شکل قرار دے دیا، اقدام کے خلاف احتجاج کی دھمکی۔ انتہائی باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ محکمہ ڈاک کو خسارے سے نکالنے کے لیے چین سے معاہدہ طے پا چکا ہے اور اس ضمن میں دورے کرنے والے چائنیز وفود نے فزیبلٹی تیار کرتے ہوئے تمام قانونی کارروائی بھی مکمل کرلی ہے۔ اس ضمن میں طے یہ پایا ہے کہ محکمے کو 8 ارب روپے کے خسارے سے نکالنے کے لیے پہلے مرحلے میں ادارے کی خالی زمینوں سمیت مختلف جی پی اوز، ہیڈ پوسٹ آفس اور ڈاک خانوں کی اضافی زمین پر کمرشل و شاپنگ پلازے، پرائیویٹ اسکولز اور اسپتال قائم کیے جائیں گے اور جن کے ماہانہ کرایوں کی آمدن سے محکمے کو خسارے سے نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی دوران چین کی فرم لاجسٹک سروس، موبائل منی سولوشن سروس اور میل سروس کا انتظام سنبھالے گی، بعدازاں مرحلہ وار وہ محکمہ ڈاک کے دائرہ اختیار میں آنے والے دیگر شعبوں کے انتظامات بھی ان کے سپرد کردیا جائے گا۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے پوسٹل سروسز مولانا امیر زمان بخاری جنہوں نے گزشتہ روز کورنگی جی پی او کی نئی تعمیر ہونے والی عمارت کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں اعتراف بھی کیا ہے۔

متعلق امتیاز کاظمی