حلال اور حرام پر بے جا فتویٰ جاری کرنا مناسب نہیں‘ امام کعبہ

کتاب مبین بھی حلال و حرام کا فرق قرآنی آیات میں آیا ہے‘ اس کام کو جید مفتیان اور علماء تک محدود رکھنا چاہئے
اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام حلال خوراک کے موضوع پر عالمی کانفرنس سے ڈاکٹر صالح بن عبداللہ کا خطاب
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) امام کعبہ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید نے کہا ہے کہ حلال خوراک کا موضوع صرف کھانے تک محدود نہیں، پینے کی اشیاء اور ادویہ کے معاملات بھی بحث طلب ہیں، حرام خوراک کے جسم پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں انہوں نے یہ بات منگل کو اسلامی یونیورسٹی کے زیراہتمام حلال خوراک کے موضوع پر دو روزہ عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں سعودی عرب کے سفیر نواف المالکی، وزیر مملکت برائے سائنس وٹیکنالوجی میر دوستین حسین ڈومکی، وزیر مواصلات ڈاکٹر عبدالکریم، ریکٹر جامعہ ڈاکٹر معصوم یاسین زئی، جسٹس (ر) خلیل الرحمن، امام کعبہ کے ہمراہ وفد کے آنے والے اراکین، نائب صدور جامعہ، ڈین فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لاء ڈاکٹر طاہر حکیم اور جامعہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداران کے علاوہ 60 ملکی وغیر ملکی مقالہ نگار بھی موجود تھے۔ امام کعبہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ کتاب مبین میںحلال و حرام کا فرق قرآنی آیات میں آیا ہے اور سعودی عرب کی اسلامی فقہ اکیڈمی اس موضوع پر کئی ایک کانفرنس و نشستوں کے انعقاد کے بعد کئی ایک سفارشات بھی جاری کرچکی ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ حلال و حرام کے حوالے سے بے جا فتویٰ جاری کرنا مناسب اقدام نہیں اور اس کام کو جید مفتیان اور علماء تک ہی محدود رکھا جانا چاہیے۔ میردوستین ڈومکی نے کہاکہ وزارت سائنس وٹیکنالوجی نے حلال خوراک کی اہمیت کے پیش نظر پاکستان حلال اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بنانے کا عزم کیا ہے جو کہ پارلیمنٹ سے پاس ہوچکا ہے اور جلد اپنا کام شروع کردے گا۔ سعودی سفیر نواف المالکی نے کہاکہ حلال خوراک کی مسلم معاشروں میں رسائی تمام مسلم ریاستوں کی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔

متعلق امتیاز کاظمی