پاکستان کی ہاکی ٹیم کی بدترین کارکردگی

کھلاڑیوں کی فٹنس کو بہتر بنانا ہاکی فیڈریشن حکام کی بنیادی ذمے داری ہے۔فوٹو: فائل

کھلاڑیوں کی فٹنس کو بہتر بنانا ہاکی فیڈریشن حکام کی بنیادی ذمے داری ہے۔فوٹو: فائل

بتدریج زوال کا شکار پاکستان ہاکی ٹیم اپنی تاریخ کے سیاہ دور تک آ پہنچی۔ ہاکی ٹیم کو غیرملکی میچز میں پے در پے جن شکستوں کا سامنا ہے اس کا کبھی تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔

حیرت انگیز امر ہے کہ ہاکی کے تیزی سے گرتے ہوئے اس معیار کو سنبھالا دینے اور کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ہاکی فیڈریشن کے حکام اور حکومت کی جانب سے کوئی مثبت بیان سامنے نہیں آیا‘ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہاکی کے کھیل کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ میلبورن میں چار ملکی انٹرنیشنل ہاکی فیسٹیول میں پاکستانی ٹیم کے کھیل کا آغاز آسٹریلیا کے ہاتھوں ایک کے مقابلے میں نو گول سے عبرت ناک شکست سے ہوا‘ شکست کا یہ سلسلہ آگے بڑھتا چلا گیا اور پاکستان اس کے گرداب سے باہر نہ نکل سکا، نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ جاپان جیسی معمولی ٹیم سے دونوں میچوں میں پاکستان کو شکست ہوئی۔

میلبورن میں اتوار کو تیسری پوزیشن کا میچ جاپان نے ایک کے مقابلے میں تین گول سے جیت لیا، صورت حال یہ تھی کہ جاپانی ٹیم نے کھیل کا آغاز دفاعی انداز میں کیا مگر پاکستانی ٹیم کی نااہلی کے باعث اسے حوصلہ ملا اور وہ گول کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس چار ملکی انٹرنیشنل ہاکی فیسٹیول میں پاکستان‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ اور جاپان شریک تھے۔ پے در پے شکستوں کے باعث پاکستانی ٹیم چوتھی پوزیشن پر رہی۔آسٹریلیا نیوزی لینڈ کو شکست دے کر اس چار ملکی ٹورنامنٹ کا چیمپئن رہا‘ آسٹریلیا کو اس ٹورنامنٹ کے دوران کسی بھی میچ میں شکست نہیں ہوئی۔ پاکستانی ٹیم کی عبرت ناک شکست اور اس افسوسناک مقام تک پہنچنے پر کون ذمے دار ہے‘ کوئی بھی اس کی ذمے داری قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ ٹیم کے ہیڈ کوچ فرحت خان نے کھلاڑیوں کی اس ناقص کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تجربے اور فٹنس کی کمی کے سبب شکست ہوئی۔ کھلاڑیوں کی فٹنس کو بہتر بنانا ہاکی فیڈریشن حکام کی بنیادی ذمے داری ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی فٹنس کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسے عالمی سطح پر ہونے والے میچز میں شریک نہیں کیا جانا چاہیے۔

کبھی وہ وقت تھا کہ پاکستان ہمیشہ پہلے نمبر پر رہتا‘ کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ اسے تیسری یا چوتھی پوزیشن کے لیے میچ کھیلنا پڑا ہو۔ پاکستان کی ہاکی ٹیم چار مرتبہ ورلڈ کپ جیت چکی ہے۔ اس کا شمار دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا تھا۔ پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان منظور جونیئر نے الزام لگایا کہ ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور چلانے والے سابق اولمپیئنز پاکستان ہاکی کی اس تباہی کے ذمے دار ہیں‘ پاکستان ہاکی اس وقت تک دوبارہ بہتر مقام پر نہیں آ سکتی جب تک میرٹ پر تقرریاں نہ ہوں اور پسند نا پسند کو ختم نہ کر دیا جائے۔ اگر میرٹ اور کھلاڑیوں کی فٹنس پر توجہ دی جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان ہاکی کے میدان میں کھویا ہوا اپنا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

متعلق صالیحہ ناصر