نیند کی کمی سے زیادہ بھوک کیوں لگتی ہے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مجھے بے خوابی کا سامنا ہے اور میں جانتا ہوں کہ جب میری کم از کم سات گھنٹے کی نیند پوری نہیں ہوتی تو تھکاوٹ اور چڑچڑا پن کا شکار ہو جاتا ہوں۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ راتوں کو مناسب نیند نہ آنے کی وجہ سے میری یادداشت پر اثر پڑا ہے۔ ’نیند سے اہم باتیں یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے‘میں نے نیند اور یادداشت کے درمین تعلق کو طویل عرصے سے منسلک کر رکھا ہے

اور ایک معقول نظریہ یہ ہے کہ گہری نیند کے دوران آپ کا دماغ مختصر مدت کی یادداشتکو طویل المدت یادداشت کو محفوظ رکھنے والے حصے میں منتقل کر دیتا ہے اور اگر آپ اچھی نیند نہیں لیتے تو یہ یادداشت ختم ہو جائے گی۔ بی بی سی ون کے لیے نیند کے بارے میں حقائق جاننے کے دوران جس چیز نے مجھے واقعی میں حیران کیا کہ کس طرح سے راتوں کی خراب نیند خون میں شوگر کی مقدار اور بھوک کو متاثر کر سکتی ہے جہاں تک اس تحقیق میں شامل صحت مند رضاکاروں کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔اس بارے میں مزید معلومات اور مدد حاصل کرنے کے لیے ہم نے لیڈز یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلینور سکاٹ سے بات کی۔اس کے بعد ہم نے رضاکاروں سے کہا ہے کہ وہ دو راتوں تک معمول کے مطابق نیند پوری کریں اور دو راتیں تین گھنٹے کی تاخیر سے بستر پر سونے جائیں اور اس کے بعد دو راتوں کو وہ جتنا چاہیں سو سکتے تھے اور میں بھی اس تحقیق میں شامل ہو گیا۔ مجھے ناخشگوار حیرانگی ہوئی کہ جن دنوں نیند کم لی تھی اس وقت میری بلڈ شوگر کا لیول بڑھ گیا اور میری بھوک بڑھ گئی۔اس کی وجوہات پر ڈاکٹر سکاٹ کہتے ہیں کہ’ ہم جانتے ہیں جب آپ نیند کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو بھوک کے ہارمونز میں تبدیلی آتی ہے اور آپ کو زیادہ بھوک محسوس ہو گی اور اس بات کا امکان کم ہے

کہ آپ خود کو بھوکا محسوس نہ کریں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نیند کی کمی کا شکار لوگ اکثر میٹھی خوراک لیتے ہیں۔’ ڈاکٹرسکاٹ کے مطابق اگر آپ اس وقت نیند سے بیدار ہوتے ہیں جب آپ کو ہونا نہیں چاہیے تو اعصابی دباؤ کے زیادہ ہارمونز اور زندگی کے لیے ضروری کارٹی زال ہارمونز پیدا کرتے ہیں اور یہ شکر کے لیول پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ایسا اگلے دن بھی ہو سکتا ہے۔ کنگز کالج کی حالیہ تحقیق سے اندازہ ہوا ہے کہ نیند کی کمی کا شکار اوسطً 385 کیلریز اضافی لیتے ہیں۔

متعلق شازیہ عندلیب