سپریم کورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل تحلیل کردی

واضح رہے کہ پی ایم ڈی سی نے 7 دسمبر 2017 کو کونسل کی تحلیل کے حوالے سے دیئے گئے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے آج پی ایم ڈی سی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پی ایم ڈی سی کے وکیل کی جانب سے کونسل کو کام کرنے دینے سے متعلق اپیل مسترد کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو تحلیل کرنے کا حکم دے دیا۔

مزید جانئیے: میڈیکل کالجز کی فیس وصولی کا طریقہ اب سپریم کورٹ طے کریگی، چیف جسٹس

35 رکنی پی ایم ڈی سی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر شبیر لہری ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ اگر پی ایم ڈی سی غیرقانونی ہے تو اسے کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران مختلف درخواست گزاروں کے وکلاء سے استفسار کیا تھا کہ نئے الیکشن ہونے تک پی ایم ڈی سی کو چلانے کا متبادل حل کیا ہوسکتا ہے۔

جس پر پی ایم ڈی سی کے سابق صدر ڈاکٹر مسعود حمید خان کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ سردار لطیف کھوسہ نے تجویز دی تھی کہ کونسل کے ایک رکن اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں ایک عبوری کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے۔

آج سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے پی ایم ڈی سی سے متعلق ایڈووکیٹ سردار لطیف کھوسہ کی تجویز منظور کرتے ہوئے عبوری کمیٹی بھی تشکیل دینے کا حکم دیا، جس کی سربراہی جسٹس ریٹائرڈ شاکر اللہ جان کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو مزید نئے میڈیکل کالجز کی منظوری سے روک دیا

عبوری کمیٹی میں اسلام آباد اور چاروں صوبوں سے میڈیکل کالجز کے وائس چانسلرز (وی سی) شامل ہوں گے جبکہ اٹارنی جنرل پاکستان بھی عبوری کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

یہ عبوری کمیٹی پی ایم ڈی سی کے نئے انتخابات کرانے کی ذمہ دار ہوگی۔

علاوہ ازیں گذشتہ روز مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیز کا ریکارڈ بھی طلب کیا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام کالجز کا دورہ کیا جائے گا اور معیار پر پورا نہ اترنے والے کالج بند کردیئے جائیں گے۔

 

متعلق محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے