امریکاکاپاکستان کی امدادروکنےکافیصلہ عجلت میں کیاگیا

واشنگٹن: غیرملکی خبرایجنسی نےامریکی حکام کےحوالےسےدعوی کیاہےکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کی امداد روکنےکےٹویٹ کےبعد امریکی حکام کویہ بات پتہ ہی نہیں تھی کہ انھیں پاکستان کی کتنی امداد روکنی ہوگی اور یہ فیصلہ جلدبازی اوربغیرکسی منصوبہ بندی کےتحت کیاگیا۔

غیرملکی خبرایجنسی نےبتایا کہ پاکستان کی تقریبا 2 ارب ڈالرسیکورٹی امداد روکنےکافیصلہ اس بات کی غمازی کرتاہےکہ امریکی انتظامیہ صدر ٹرمپ کے ٹویٹ کےبعد انھیں پالیسی کاحصہ بنانےمیں مشکلات یاجلد بازی کا شکار ہوجاتی ہے۔پاکستان کی 2 ارب ڈالر امداد روکنےکا تخمینہ بھی اس ٹویٹ کےبعد لگایاگیاتھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کئی ماہ سے پاکستان کی امداد روکنےپرغورکررہی تھی۔اس حوالےسے کرسمس سے قبل بھی امریکا کے قومی سلامتی مشیران کی اہم میٹنگ ہوئی تھی ۔ صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کےوقت بھی پاکستان سے کی جانےوالی ڈیمانڈزاورپاکستان کےجوابات پر غور کیاجارہاتھا۔ امریکی انتظامیہ کے تین عہدے داران نے واضح کیاہےکہ ٹرمپ کے فیصلے بعد پاکستانی ردعمل پرکام مکمل ہونےمیں مارچ اور اپریل تک کاوقت متوقع طورپر لگ سکتاتھا۔

امریکی عہدے داران نے تسلیم کیاکہ جب صدر ٹرمپ نے پالیسی بیان جاری کیا، اس وقت بھی جوابی ردعمل کےلیے کوئی تیاری یا کوئی فوری پلان بھی موجود نہیں تھا۔ انھوں نے مزید تسلیم کیاکہ اس ٹویٹ پرعمل کرنےکےلیےتاحال امریکاکےپاس کوئی واضح پالیسی موجود ہی نہیں ہے۔

امریکاکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان مائیکل اینٹن نے غیرواضح اندازمین بتایاہےکہ امریکی صدر نے اگست میں افغان جنگ کی نئی پالیسی کےتحت یہ واضح کردیاتھاکہ پاکستان کے خلاف نئی اور سخت پالیسی آئے گی۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے اقدامات پر کافی غورکےبعد فیصلہ کیاگیاہے۔

امریکی عہدے داران نے مزید یہ بھی کہاکہ پاکستان کو صدر ٹرمپ کے فیصلے سے قبل اخلاقی طورپر سفارتی سطح پربھی بتانےکاروادار نہیں سمجھاگیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اس حوالےسے کوئی بیان دینے سے گریز کیاہے۔

  Email This Post

متعلق قمر یوسف زئی

قمر المنیر یوسف زئی انیس سو نوے سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ مردان سے تعلق رکھنے والے قمریوسف زئی 2006 میں‌پیشہ وارانہ فرائض‌کی انجام دہی کے سلسلے میں‌افغانستان میں‌جیل میں‌بھی رہے۔ بین الاقوامی امور میں‌اعلیٰ‌تعلیم یافتہ قمر یوسف زئی نارویجن ٹی وی کے ساتھ ساتھ کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد کے ممتاز اخبارات سے وابستہ رہے۔ قمر یوسف زئی القمرآن لائن سے بحیثیت مینیجنگ ایڈیٹر وابستہ ہیں