وی وی آئی پی موومنٹ کیس، تمام رکاوٹیں دور کی جائیں: سپریم کورٹ کا حکم

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وی وی آئی پی موومنٹ کی سماعت ہوئی۔ آئی جی سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک اور دیگر افسران عدالت پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے کہا خواجہ صاحب بتائیں کہ شہریوں کے حقوق کیا ہیں؟ سڑکوں کو بند کرنے سے متعلق شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، آئی جی سندھ نے کہا وی وی آئی پیز کے لیے قوانین موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا آئی جی صاحب، میں بھی تو وہ وی آئی پی ہوں، میرے لیے تو سٹرک بلاک نہیں ہوتی۔ آئی جی نے کہا کہیں سڑکیں بند نہیں، صرف موومنٹ کے لیے انتظامات کیے جاتے ہیں، صرف دو منٹ کے لیے ٹریفک بند کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا وی وی آئی پی موومنٹ سیاسی رہنماؤں کی ہو یا کسی اور کی،شہریوں کو تکلیف سے بچایا جائے۔

عدالت نے آئی جی کو حلف نامہ جمع کر نے کا حکم بھی دیا۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ پولیس رولز کے مطابق تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ آئی جی سندھ نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی۔

کیس کی سماعت کے بعد اے ڈی خواجہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرے عہدے کے بارے میں حکومت سے پوچھا جائے، میں اپنا عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہوں لیکن عدالتی فیصلے پر عہدہ چھوڑوں گا۔

ادھر سپریم کورٹ آمد سے پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار بغیر کسی پروٹوکول و سکیورٹی کے مزار قائد پہنچے، چیف جسٹس نے مزارقائد جانے کیلئے روٹ بھی نہیں لگوایا۔

متعلق محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے