شاہ زیب قتل: چیف جسٹس نے تمام ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے

چیف جسٹس پاکستان نے شاہ زیب قتل کیس میں سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سول سوسائٹی کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ زیب قتل کیس کے مبینہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزائیں کالعدم قرار دینے اور کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کیے جانے کے بعد سیشن کورٹ نے شاہ رخ جتوئی سمیت تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا ہے۔

سول سوسائٹی نے کیس میں سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں ملزمان کی رہائی کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیلنج کیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے شاہ زیب قتل کیس کی اپیل 6 جنوری کو اسلام آباد طلب کی جس کے بعد آج اپیل سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔

اپیل پر سماعت

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس پر سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سول سوسائٹی کی اپیل سنی۔

کیس میں سول سوسائٹی کی جانب سے فیصل صدیقی نے کیس کی پیروی کی جب کہ مبینہ مرکزی ملز شاہ جتوئی کی پیروی لطیف کھوسہ نے کی۔

ملزم سراج تالپور اور سجاد تالپور کی جانب سے محمود قریشی جب کہ غلام مرتضیٰ لاشاری کی طرف سے ڈاکٹر بابر اعوان پیش ہوئے۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد سول سوسائٹی کی اپیل منظور کرلی۔چیف جسٹس پاکستان نے مبینہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت سراج تالپور، سجاد تالپور اور مرتضیٰ لاشاری کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کو تمام ایئرپورٹس کو ہدایت نامہ بھیجنے کا حکم دیا۔

اس کے علاوہ عدالت عظمیٰ نے کیس کے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیئے۔

شاہ زیب کا قتل

خیال رہے کہ 20 سالہ نوجوان شاہ زیب خان کو دسمبر 2012 میں ڈیفنس کے علاقے میں شاہ رخ جتوئی اور اس کے دوستوں نے معمولی جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جون 2013 میں اس مقدمہ قتل کے مبینہ مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور نواب سراج علی تالپور کو سزائے موت اور دیگر ملزمان بشمول گھریلو ملازم غلام مرتضٰی لاشاری اور سجاد علی تالپور کو عمر قید کی سزا سنائی تھی

متعلق ویب ڈیسک