جامعہ ملّیہ اسلامیہ نئی دہلی کا ۹۷واں یومِ تاسیس

9 days ago
0

جامعہ ملّیہ اسلامیہ نئی دہلی کا ۹۷واں یومِ تاسیس
رپورٹ۔ محمد طاہر جمیل۔ دوحہ قطر
جامعہ ملّیہ اسلامیہ نئی دہلی گزشتہ۹۷ سالوں سے علم کی شمع روشن کئے ہوئے ہے جس سے فیض یاب ہونے والے تمام دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اپنی مادرِ علمی پر نہ صرف فخر کرتے ہیں بلکہ اس کے یومِ تاسیس کو منانا ایک اعزازسمجھتے ہیں۔ 
جامعہ ملّیہ اسلامیہ المنائی قطر کے بانی چئیرمین نجم الحسن خان پچھلے چار سالوں سے جامعہ کا یوم تاسیس مناتے آ رہے ہیں، گزشتہ سالوں کے کامیاب پروگرام کے انعقاد نے انہیں یہ حوصلہ دیا کہ اس سال اسے اور بڑے پیمانے پر منایا جائے۔ اس دفعہ انڈیا کے سابق وزیر خارجہ محترم سلمان خورشید بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ سلمان خورشید صاحب کے نانا، انڈیا کے تیسرے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کے پہلے وائس چانسلر تھے جو ۲۲ سال اس عہدے پرکام کرتے رہے اور انتقال کے بعد جامعہ کے احاطہ میں مدفون ہوئے۔
گزشتہ دنوں دوحہ کے ۵ اسٹار ریڈیسن بلو ہوٹل کے جیوانا ہال میں تقریب کا اہتمام کیا گیاجس کی صدارت عزت مآب سفیر ہند پی کمارن نے کی جب کہ مہمانان اعزازی میں شامل تھے انڈیا سے آئے ہوئے مہمان دور درشن کے سابق مشیر آ صف اعظمی ، دہلی پبلک اسکول ورلڈ فاونڈیشن کی چئیر پرسن محترمہ لوئیس خورشید، لاء آف اوقاف اور متعدد دفاعی سروسز پر کتابوں کے مصنف لیفٹنٹ کرنل ریٹائیرڈ حفیظ اللہ جانباز جبکہ قطرسے ڈی پی ایس۔ایم آئی ایس اسکول کے صدر اور کاروباری شخصیت حسن چوگلے صاحب ساتکو گروپ کے ڈائیریکٹر محمد صبیع بخاری ، قطر انٹرنیشنل الیکٹریکل کمپنی کے ڈائیریکٹر عارف مہدی اور اردو ریڈیو ایف ایم ۱۰۷ کی معروف صداکار اور پروگرام ڈائیریکٹر عبید طاہر۔ اسٹیج کے بارونق ہونے کے بعد قطر میں مقیم معروف شاعر عزیز نبیل کے تعارفی کلمات کے بعد تقریب کا باقا عدہ آغاز ربِ جلیل کے با برکت کلام سے ہوا جسکی سعادت تین ننھے منے بچوں زہیر، ہشام اور صائم نے حاصل کی۔اس کے بعد محمد خلیق صدیقی کا لکھا ہوا جامعہ کا ترانہ گو نج اٹھا۔ 
دیارِشوق میرا ، دیارِ شوق میرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شہرآرزو میرا ، شہر آرزو میرا 
یہ اہلِ شوق کی بستی یہ سر پھروں کا دیار ۔۔۔۔یہاں کی صبح نرالی یہاں کی شام نئی
جسے پیش کرنے والوں میں شامل تھے نجم الحسن، مظہر امام، دلشاد حسین، مجاہد حسیب خان اور یاسر عبدالرحمان بمعہ فیمیلیز۔
ترانے کے بعد المنائی کے بانی اور سرپرست نجم الحسن خان نے استقبالیہ پیش کیا اور تمام مہمانوں کو خوش آ مدید کہا، جس کے بعد مہمان خصوصی سلمان خورشید ،سفیر ہند پی کمارن ، محترمہ لوئیس خورشیداور آصف اعظمی کو یادگاری یشیلڈزییش کی گئیں ۔جامعہ کے ہونہار سابق طالبعلم اطہر ضیاء اعظمی جو آجکل ایک موذی بیماری کا شکا ر ہیں انکی کتاب ’ ابجدِ عشق ‘ جسے انکے دیدینہ ساتھی عزیز نبیل نے ترتیب دیا ہے کی ، اسٹیج پر موجود مہمانوں کے ہاتھوں رونمائی کی گئی۔ اب تقریروں کا سلسلہ شروع ہوا عبید طاہر نے کہا کہ جامعہ کے طالبعلم اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں وہ جہاں، جس جگہ بھی کام کرتے ہیں اپنی نفاست اور علمیت کی بدولت پہچانے جاتے ہیں۔عارف مہدی نے نجم الحسن کو مبارکباد پیش کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ المنائی کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے کیونکہ المنائی نے اچھے کام کئے ہیں۔ محمد صبیع بخاری نے نجم الحسن اور انکی ٹیم کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اس کے ساتھ انہوں نے جناب سلمان خورشید اور سفیر ہند کی خدمت میں خوبصورت اشعار پیش کرنے کے ساتھ بیشمار اشعار سنائے جس پر عزیز نبیل بے ساختہ کہہ اٹھے کہ بخاری صاحب نے تمام محفل کو شاعری کے نشہ میں شرابور کردیا۔ حسن چوگلے صاحب نے بھی جامعہ ملیہ المنائی قطر کے کام کو سراہا اور اس کے عہدیداران کو مبارکباد پیش کی، انہوں نے بھی کئی اشعار سنائے اور ساتھ المنائی کو تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کا مشورہ دیا انہوں نے مزید کہا کہ صرف جشن منانے سے کچھ نہیں ہوگا ، تعلیم کو پھیلانے سے اُجالا آئے گا۔ہندستان سے آئے ہوئے مہمان آصف اعظمی نے بڑی فکر انگیز تقریر کی انکا کہنا تھا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ صرف ایک درسگا ہ ہی نہیں بلکہ ایک مذہب اور تحریک کا نام ہے۔جامعہ کے طالبعلم الگ ہی پہچانے جاتے ہیں، مذہب، قومیت اور ملک کی خدمت کرنا وہ اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔ میڈم لوئیس خورشیدکا اپنے مختصر خطاب میں کہنا تھا کہ میں نے جامعہ کو بہت قریب سے دیکھا ہے وہ ایک بہترین درسگاہ ہے۔ مہمان خصوصی سلمان خورشید نے جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی قطر کو پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ سے وابسطہ لوگوں کا ہمیشہ تعلیم پر فوکس رہا ہے اس سلسلہ میں انہوں نے اپنے نانا ڈاکٹر ذاکر حسین کا واقعہ پیش کیا کہ کس طرح وہ تعلیم اور طالبعلموں کو اہمیت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعہ کو اقلیتی ادارہ کہنا بالکل درست نہیں ، لوگ مخالفت اور خلافت کو آپسمیں گڈمڈ کر دیتے ہیں،ہندستان میں خلافت کی تحریک، گاندھی، نہرو، مولانا جوھر اور کئی لیڈروں نے ساتھ چلائی تھی۔ جامعہ کاآزادی کی تحریک میں ایک مرکزی کردار رہا ہے جو اسے سب سے منفرد کرتا ہے۔ گاندھی نے کہا تھا جامعہ ملیہ سے اسلامیہ کا لفظ نہیں نکا لا جا سکتا ، جامعہ، اسلامیہ کے بغیر نامکمل ہے ۔ جامعہ کے بارے میں کہا جا تاہے کہ جس نے ہندستان آکر جامعہ کو نہیں دیکھا گویا اس نے ہندستان نہیں دیکھا۔مہمان خصوصی کی پُر مغز تقریر کے بعد تقریب کے صدر سفیر ہند نے اپنے پیشرؤ مقرروں کے خیالات سے اتفاق کیا کہ جامعہ ایک تحریک کا نام ہے جس نے آزادی کے حصول کی جدو جہد میں بھرپور حصہ لیا ۔ تقریروں کا سلسلہ یہیں پہ ختم ہوتا ہے جس کے ساتھ عزیز نبیل مختصر مشاعرہ کا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اردو مشاعرے ہماری تہذیب اور روایات کا حصہ ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ قطر میں اردو کے بہترین شعراء موجود ہیں۔ وقت کی تنگی کے باعث آجکی اس تقریب میں چند شعرائے کرام نے ہی اپنا کلام پیش کیا جن میں ا شفاق دیشمکھ، افروز عالم، عزیز نبیل ،فرتاش سید اور عتیق انظر شامل تھے۔ حاضرین نے کلام سے خوب لطف اٹھایا اور بھرپور داد سے نوازا۔آج کی اس تقریب کے کچھ خاص مہمانوں میں ڈاکٹر محمد علیم، سلیم قدوائی، سید جواد رضی، خالد داد خان، ریاض منصوری، علی فرابی، صلاح الدین احمد، ندیم ماہر، طاہر جمیل، بلال خان، شوکت علی ناز، شہاب الدین، احمد اشفاق، منصور اعظمی، علی عمران، شاہد خان، جواد عالم، گوتم ندکرنی، تڑون اگروال، میرفیض علی، محمد عارف اور محمد انیس شامل تھے۔
آخر میں عزیز نبیل نے اظہار تشکّر پیش کیا اور اس کے ساتھ ہی مدتوں یاد رہنے والی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ 
یہاں پہ تشنہ لبی مئے کشی کا حاصل ہے ۔ یہ بزمِ دل ہے یہاں کی صلائے عام نئی۔ 


2018-01-29

متعلق قمر یوسف زئی

قمر المنیر یوسف زئی انیس سو نوے سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ مردان سے تعلق رکھنے والے قمریوسف زئی 2006 میں‌پیشہ وارانہ فرائض‌کی انجام دہی کے سلسلے میں‌افغانستان میں‌جیل میں‌بھی رہے۔ بین الاقوامی امور میں‌اعلیٰ‌تعلیم یافتہ قمر یوسف زئی نارویجن ٹی وی کے ساتھ ساتھ کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد کے ممتاز اخبارات سے وابستہ رہے۔ قمر یوسف زئی القمرآن لائن سے بحیثیت مینیجنگ ایڈیٹر وابستہ ہیں