امریکہ میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد کم ترین سطح پر

پھپھڑوں کے تحفظ سے متعلق ایک امریکی گروپ اے ایل اے نے کہا ہے کہ اس وقت امریکہ میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد اپنی کم ترین سطح پر ہے جس کی وجہ تمباکو پر کنٹرول کی پالیسیوں کا صحیح استعمال ہے۔

گروپ اےایل اے کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت بالغ افراد اور ٹین ایجرز میں تمباکو نوشی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے ۔ اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ میں اوسطاً ساڑھے 15 فی صد بالغ اور ہائی سکول میں زیر تعلیم 8 فی صد طالب علم سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انہوں نے تمباکو نوشی کے اعداد و شمار بیماریوں کی روک تھام اور بچاؤ کے قومی مراکز سے حاصل کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ سن 2005 میں یہ شرح تقریباً 21 فی صد تھی جو 2016 میں گر کر ساڑھے 15 فی صد ہوگئی۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکہ بھر میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 3 کروڑ 80 لاکھ کے قریب ہے۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے والدین یا دوست تمباکو نوشی کرتے ہوں، ان کے سگریٹ پینے کی جانب راغب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

مطالعاتی جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر افراد 18 سال کی عمر سے پہلے ہی سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں اور کچھ تو 11 سال کی عمر میں ہی سگریٹ پینے لگتے ہیں۔

اے ایل اے امریکی ریاستوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ سگریٹ خریدنے کی کم سے کم قانونی عمر میں اضافہ کر کے اسے 21 سال تک لائیں جو امریکہ میں الکحل خریدنے کی عمر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مڈل اور ہائی اسکول کے طالب علم سگریٹ نہیں خرید سکیں گے تو ان کا تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہو جائے گا۔

متعلق عنصر ملک