اسرائیل نے شام پر تیس سال میں پہلا بڑا حملہ کردیا

دمشق: اسرائیل نے شام پر گزشتہ تیس سال میں اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ کردیا‘ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں شام میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے‘ روس اور امریکہ نے اسرائیل کی کارروائی کو خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دے دیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق اسرائیل نے شام پر حملے کے لیے ایران اور شام کو ذمہ دار قرار دیا ہے‘ اسرائیل کا کہنا ہے کہ شام کی حدود سے طیارہ شکن توپوں نے ایف 16 کو نشانہ بنایا جبکہ شام ہی سے پرواز کرنے والے ایرانی ڈرون اسرائیلی سرحد میں داخل ہوگیا جسے اسرائیل نے مار گرایا۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ ’ہماری خودمختاری کو نقصان پہنچانے کے خلاف‘ اسرائیل کی اپنے دفاع کی پالیسی ’بالکل واضح‘ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران نے شام کی حدود سے ایرانی ڈرون اسرائیل میں بھیجا، اسرائیل اس کے لیے ایران اور شام کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ ہمارا حق اور ذمہ داری ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے جہاں تک ضروری ہوا۔ شام میں ایران کی موجودگی اسرائیل کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہے‘۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی جانب سے متعدد بار شام میں فضائی کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔اس سے قبل اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس نے شام میں گذشتہ 30 برس کے دوران سے بڑا فضائی حملہ کیا۔

اسرائیلی دفاعی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ شامی دارالحکومت دمشق کے قریب کم سے کم 12 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔یہ سنہ 1982 کی لبنان جنگ کے بعد شام کے خلاف اپنی نوعیت کی پہلی بڑی کارروائی ہے۔

دوسری جانب امریکہ اور روس نے شام میں ایران کی حامی فورسز کے خلاف اسرائیل کی سرحد پار سے کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

روس کا کہنا تھا کہ ایسے کسی بھی اقدام سے پرہیز کرنا چاہیے جو ایک نئے علاقائی تنازع کا باعث بنے۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فون پر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہوں نے بات کی اور شام میں فضائی حملوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے مطابق اس کے ایک ایف 16 طیارے کو شام کی سرزمین سے طیارہ گرانے والی توپوں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں جہاز گر گیا تھا۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘ایک جنگی ہیلی کاپٹر نے ایک ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا جسے شام سے چھوڑا گیا تھا اور وہ اسرائیلی حدود میں داخل ہو گیا تھا۔’

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ڈرون کو جلد ہی شناخت کر لیا گیا اور ‘اس کے جواب میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے شام کے اندر ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔‘

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاع نے ہفتے کو شامی فوجی اڈے کے خلاف اسرائیل کی طرف سے ’جارحیت‘ کے بعد فائر کیے۔ شام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک سے زیادہ جہازوں کو نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ ایران اور روس شامی صدر بشار الاسد کے اہم حمایتی ہیں اور ایرانی حکومت انھیں باغیوں کے خلاف لڑنے میں مدد دے رہی ہے۔گذشتہ نومبر میں مغربی انٹیلی جنس ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تہران شام میں مستقل فوجی اڈا بنا رہا ہے۔ اس کے جواب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے خبردار کیا تھا کہ ’اسرائیل ایسا نہیں ہونے دے گا‘۔

بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار ٹام بیٹمین کہتے ہیں کہ اسرائیل کے شام میں فضائی حملے کوئی نئی بات نہیں ہے‘ تاہم شام کی طرف سے کسی اسرائیلی جہاز کو مار گرانے سے جنگ کے شعلوں کو مزید ہوا ملے گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF  Email

متعلق قمر یوسف زئی

قمر المنیر یوسف زئی انیس سو نوے سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ مردان سے تعلق رکھنے والے قمریوسف زئی 2006 میں‌پیشہ وارانہ فرائض‌کی انجام دہی کے سلسلے میں‌افغانستان میں‌جیل میں‌بھی رہے۔ بین الاقوامی امور میں‌اعلیٰ‌تعلیم یافتہ قمر یوسف زئی نارویجن ٹی وی کے ساتھ ساتھ کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد کے ممتاز اخبارات سے وابستہ رہے۔ قمر یوسف زئی القمرآن لائن سے بحیثیت مینیجنگ ایڈیٹر وابستہ ہیں