آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح: اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

واضح رہے کہ مذکورہ کیس کی 8 فروری کو ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو دلائل کے لیے طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ تسلیم کرتے ہیں آرٹیکل 62 وین ایف مبہم ہے، اس کی تشریح مشکل ٹاسک ہوگا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 5 رکنی لارجر بنچ مذکورہ درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔

آج سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ ‘اٹارنی جنرل ہماری اجازت کے بغیر لاہور کیوں گئے؟ ان پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہیں۔’

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ ‘اٹارنی جنرل معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کے جنازے کے لیے لاہور میں ہیں’۔

جس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ‘عاصمہ جہانگیر کی وفات کا بہت صدمہ ہے، یہ ایک افسوسناک سانحہ ہے، لیکن کسی کے چلے جانے سے کام رُک نہیں جاتے’۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ کا آگاہ کیا کہ ‘کل اٹارنی جنرل بیرون ملک جارہے ہیں’۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘کیا وہ گھومنے پھر نے جارہے ہیں؟’

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ ‘اٹارنی جنرل کیسز کے سلسلے میں بیرون ملک جارہے ہیں’۔

جس پر جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ‘یہ کوئی اہم کیسز نہیں، ہم ان کی عام چھٹیوں کی درخواست مسترد کرتے ہیں’۔

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ‘اٹارنی جنرل سے بات کرتا ہوں، وہ آج ساڑھے 4 بجے تک عدالت میں حاضر ہوجائیں گے، آپ 10 ہزار روپے جرمانے والا حکم واپس لے لیں’۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘ٹھیک ہے، آپ انہیں بلالیں آج ہم ساڑھے 4 بجے انہیں سنیں گے، یہ اہم کیس ہے’۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ‘ہم آج اٹارنی جنرل کا انتظار کریں گے، وہ خود پیش ہوکر مقدمے میں دلائل دیں’۔

جس کے بعد سماعت میں شام ساڑھے 4 بجے تک کا وقفہ کردیا گیا۔

آئین کا آرٹیکل 62 ون ایف

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا، جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

دوسری جانب گذشتہ برس 15 دسمبر کو عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دیا تھا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو آئین کی اسی شق یعنی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔

جس کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا کہ آیا سپریم کورٹ کی جانب سے ان افراد کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا یا یہ نااہلی کسی مخصوص مدت کے لیے ہے۔

اس شق کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ میں 13 مختلف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔

سپریم کورٹ میں یہ درخواستیں دائر کرنے والوں میں وہ اراکینِ اسمبلی بھی شامل ہیں، جنہیں جعلی تعلیمی ڈگریوں کی بنیاد پر نااہل کیا گیا۔

ان درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا قانون ختم کرکے اس کی مدت کا تعین کیا جائے

تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے عدالتی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

6 فروری کو عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں نواز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ کئی متاثرہ فریق عدالت کے روبرو ہیں، وہ ان کے مقدمے کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔

متعلق محمد ہارون عباس قمر

محمد ہارون عباس، صحافی، براڈکاسٹراورسافٹ وئر انجینئرپاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم فیصل آباداوربراڈکاسٹنگ کی تعلیم ہلورسم اکیڈمی ، ہالینڈسے حاصل کی۔ کمپیوٹر میں تعلیم اسلام آباد، پاکستان سے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، ریڈیائی صحافت سے وابستہ رہے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلزکے ساتھ ساتھ ریڈیو ایران،ریڈیو پاکستان سے ان کی وابستگی رہی۔ تعلیم اور صحافتی سرگرمیوں کے سلسلے میں وہ پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران، سری لنکا، نیپال، وسطی ایشیائی ریاستوں‌کے علاوہ مشرقی یوروپ کے مختلف ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔مختلف اخبارات میں سماجی، سیاسی اور تکنیکی امور پر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔علاوہ ازیں اردو زبان کو کمپیوٹزاڈ شکل میں ڈھالنے میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ محمد ہارون عباس ممتاز این جی اوز سے وابستہ رہے ہیں۔ جن میں جنوبی ایشیائی ممالک کی تنظیم ساوتھ ایشین سنٹر اور پاکستان کی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندہ فورم پاکستان این جی اوز فیڈرشین شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی میڈیا ونگ اسلام آباداور پاکستان کے پارلیمنٹرینز کی تنظیم پارلیمنٹرین کمشن فار ہیومین رائٹس میں بھی تکنیکی امور کے نگران رہے ۔وہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز گروپ جنگ گروپ آف نیوزپیپرز، پاکستان کے اردو زبان کے فروغ کے لئے قائم کئے گئے ادارے مقتدرہ قومی زبان ، پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی گروپ دیوان گروپ آف کمپنیز کو تکنیکی خدمات فراہم کرتے رہے ہیں۔ محمد ہارون عباس القمر آن لائن کے انتظامی اور تکنیکی امور کے نگران ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں انٹرنیٹ پر پاکستان کی تمام نیوز سائٹس کے پلیٹ فارم پاکستان سائبر نیوز ایسوسی ایشن کے پہلے صدر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے