مسعود مُنّور

masoodمسعود مُنّور نارویجین شہری ہیں اورانیس سو نوے سے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ اپنا شعری سفر کراچی میں جون ایلیا کی اُنگلی پکڑ کر شروع کیا اور جب سے اخبارات ، جرائد ، ٹی وی، ریڈیو اور فلم اُن کا تختہء مشق رہے ہیں۔

سفر ہمیشہ اُن کے معمولات کا جزو رہا ہے ۔ کراچی ، لاہور ، کابل ، دہلی، لندن اور اوسلو اُن کے سفری پڑائو ہیں ۔حلقہء اربابِ ذوق لاہور کے وہ واحد رکن ہیں جن کا نام 80 کی دہائی میں حلقے کے اراکین کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا۔ALIEN ہونے کی سزا ۔

اب وہ ناروے کے ادیبوں کے مرکز کے رکن ہیں ۔ اُن کے پانچ شعری مجموعے اب تک شائع ہو چکے ہیں : دیو مالا( اُردو) صدا سبز سرگم ( اُردو) سورج کی بشارت ( اُردو) قائد اعظم دی وار( پنجابی) دیس نکالا( پنجابی) ۔ مضامین کا ایک مجموعہ “خلطِ مبحث ” کے نام سے لاہور سے چھپ چکا ہے ۔

ہندوستان میں دو کتابوں کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ امرتا پریتم کا ناول دوسری منزل اور خوشونت سنگھ کے انگریزی ناول Train to pakistan کا ترجمہ پاکستان ایکسپریس کے نام سے دہلی سے چھپا

مسعود منور القمرآن لائن سے مدیر کی حیثیت سے وابستہ ہیں